تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس کل ہوگا
  • بریکنگ :- ملکی سیاسی،معاشی اورسیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاجائےگا
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈےپرغورکیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- وزارتوں،ڈویژنزمیں سی ای اوزاورایم ڈیزکی خالی اسامیوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ای اوبی آئی کےچیئرمین کی کنٹریکٹ پرتعیناتی کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ذیلی کمیٹی برائےادارہ جاتی اصلاحات کےفیصلوں کی توثیق کرےگی
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ ذیلی کمیٹی برائےتوانائی کےفیصلوں کی بھی توثیق کرےگی
  • بریکنگ :- کابینہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کےقانون میں ترمیم کی منظوری دےگی

اسد عمر نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیوں پر سوال اٹھا دیئے

Published On 03 April,2021 10:11 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اسد عمر نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان پر عائد سفری پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت نے ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کا چناؤ سائنسی بنیاد پر کیا یا اس کی وجہ خارجہ پالیسی ہے؟۔

 وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ کے خط کی کاپی کو ٹویٹ کیا ہے، جس میں ناز شاہ نے بھارت، امریکہ کی نسبت بہتر صورتحال کے باوجود پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔

اسد عمر نے لکھا ہے کہ ہر ملک کو اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق ہے، تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے کورونا صورتحال کو جواز بنا کر پاکستان سمیت چند دیگر ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے عمل نے جائز سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے لئے پاکستان و چند دیگر ممالک کا چناؤ سائنسی بنیاد پر تھا یا اس کی وجہ خارجہ پالیسی تھی۔

دوسری جانب برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانیہ میں کورونا کے حوالے سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کر دی۔ انھوں نے اس سلسلے میں برطانوی فارن سیکرٹری کو خط بھی لکھا ہے۔

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانوی فارن سیکرٹری کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سیاسی ہے، بھارت سمیت کئی ممالک میں کورونا کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے، لیکن انھیں ریڈ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے۔ پاکستان میں موجود برطانوی شہری اور ریزیڈنسی ویزا کے حامل افراد ہی واپس برطانیہ جا سکیں گے، پاکستانیوں کو وزٹ ویزہ ایشو نہیں ہوگا۔

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے بعد صرف برطانیہ کے شہری اور ریزیڈنسی ویزہ ہولڈرز ہی برطانیہ جا سکیں گے، پاکستانیوں کے لیے وزٹ ویزے پر پابندی ہوگی، برطانیہ پہنچ کر ان شہریوں کو بھی ہوٹل میں قرنطینہ کے دس دن گزارنے ہونگے اور ہوٹل کے اخراجات بھی شہریوں کے ذمے ہونگے۔ برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازیں جاری رہیں گی تاہم ان کے شیڈول میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

ریڈ لسٹ میں آنے سے پاکستان میں موجود 40 ہزار سے زائد دہری شہریت کے حامل پاکستانی اور کشمیری متاثر ہوں گے، 35 ممالک پہلے ہی ریڈ لسٹ میں شامل تھے اور اب پاکستان کے ساتھ فلپائن، بنگلہ دیش اور کینیا بھی ریڈ لسٹ میں شامل ہوگئے ہیں، پابندی کا اطلاق 9 اپریل سے ہوگا۔