تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی

بلوچستان میں پولیو مہم 2 سال کے دوران دھرنوں اور کورونا کے سبب 3 بار ملتوی ہوئی

Published On 15 April,2021 10:45 am

کوئٹہ : (دنیا نیوز) بلوچستان پولیو کے مرض کے لیے ہائی رسک ایریا ہے لیکن گزشتہ دو سالوں کے دوران صوبے میں پولیو مہم مہلک مرض کورونا اور گرینڈ الائنس کے ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے تعطل کا شکار رہی۔

پولیو کا شمار خطر ناک ترین بیماریوں میں ہوتا ہے جس سے بچے زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں، اس بیماری سے بچاؤ کے لیے وقتا فوقتا پولیو مہم چلائی جاتی ہے لیکن گزشتہ سال عالمی وبا کورونا کی وجہ سے اور رواں سال سرکاری ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے پولیو مہم تین بار ملتوی ہوچکی ہے۔

بلوچستان کا شمار پولیو کے خطرناک مرض کے حوالے سے حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ سال 26 کیسز اور رواں سال ایک کیس قلعہ عبداللہ سے سامنے آیا لیکن اسکے باوجود بلوچستان میں پولیو مہم کورونا اور دھرنوں کی وجہ سے متعدد بار ملتوی ہوتی رہی۔

صوبے میں مہلک مرض پولیو کی وجہ سے ہر سال درجنوں بچے عمر بھر کی معزوری کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کے لیے ضرروری ہے کہ پولیو مہم تواتر کے ساتھ جاری رہے تا کہ بلوچستان میں پولیو کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔