تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن
  • بریکنگ :- پولنگ 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار

بلوچستان میں پولیو مہم 2 سال کے دوران دھرنوں اور کورونا کے سبب 3 بار ملتوی ہوئی

Published On 15 April,2021 10:45 am

کوئٹہ : (دنیا نیوز) بلوچستان پولیو کے مرض کے لیے ہائی رسک ایریا ہے لیکن گزشتہ دو سالوں کے دوران صوبے میں پولیو مہم مہلک مرض کورونا اور گرینڈ الائنس کے ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے تعطل کا شکار رہی۔

پولیو کا شمار خطر ناک ترین بیماریوں میں ہوتا ہے جس سے بچے زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں، اس بیماری سے بچاؤ کے لیے وقتا فوقتا پولیو مہم چلائی جاتی ہے لیکن گزشتہ سال عالمی وبا کورونا کی وجہ سے اور رواں سال سرکاری ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے پولیو مہم تین بار ملتوی ہوچکی ہے۔

بلوچستان کا شمار پولیو کے خطرناک مرض کے حوالے سے حساس ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ سال 26 کیسز اور رواں سال ایک کیس قلعہ عبداللہ سے سامنے آیا لیکن اسکے باوجود بلوچستان میں پولیو مہم کورونا اور دھرنوں کی وجہ سے متعدد بار ملتوی ہوتی رہی۔

صوبے میں مہلک مرض پولیو کی وجہ سے ہر سال درجنوں بچے عمر بھر کی معزوری کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کے لیے ضرروری ہے کہ پولیو مہم تواتر کے ساتھ جاری رہے تا کہ بلوچستان میں پولیو کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔