تازہ ترین
  • بریکنگ :- عطاتارڑ،رانامشہود،ملک احمدخان کی پولیس ہراسگی کیخلاف درخواست
  • بریکنگ :- عدالت نےپولیس کوغیرقانونی طورپرہراساں کرنےسےروک دیا
  • بریکنگ :- آئی جی پنجاب سےتینوں رہنماؤں کیخلاف کیسزکاریکارڈطلب
  • بریکنگ :- پولیس ہراساں کرنےکیلئےچھاپےماررہی ہے،درخواست گزاروں کامؤقف
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی کےہاکی اسٹیڈیم میں جلسےکیخلاف درخواست پرسماعت
  • بریکنگ :- جسٹس علی ضیانےدرخواست پرسماعت سےمعذرت کرلی
  • بریکنگ :- لاہور:عدالت نےفائل دوبارہ چیف جسٹس کوارسال کردی

والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم قرار

Published On 08 May,2021 05:53 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہوگا اور ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ صدر مملکت نے آرڈیننس جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس 2021 جاری کردیا ہے، آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آرڈیننس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہو گا، والدین کو گھروں سے نکالنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا۔

آرڈیننس کے مطابق گھر والدین کی ملکیت ہونے کی صورت میں والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہو گا۔ والدین کے بچوں کو تحریری نوٹس دینے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا۔ وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا۔