تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاچین کےروزنامہ گلوبل ٹائمزمیں چھپنےوالاآرٹیکل
  • بریکنگ :- چین کیساتھ ہمارےتعلقات مثالی ہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- چین کیساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی جزوہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- چین کیساتھ دوستانہ تعلقات کوتمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دونوں ممالک کےتعلقات کی تاریخ منفرد،باہمی اعتماداورتعاون پرقائم ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- چین پاکستان کاسب سےبڑاتجارتی شراکت دارہے،عمران خان
  • بریکنگ :- گزشتہ سال دونوں ممالک کےدرمیان تجارتی حجم ریکارڈسطح پررہا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغانستان گزشتہ 20 سال سےعدم استحکام کاشکاررہا،عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان پائیدارترقی کےراستےپرگامزن ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی عوام کی خوشحالی کےگردگھومتی ہے،وزیراعظم

اپوزیشن منتخب حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑی ہے: وزیراعظم

Published On 26 August,2021 06:21 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن منتخب حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑی ہے۔ جانے والے حکمران بیس ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے، اقتدار میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، تحریک انصاف نے معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا، آج خسارہ ایک اعشارہ آٹھ ڈالر کی سطح پر آگیا، تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن،کامیابی کا شارٹ کٹ ہے نہ ہی کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے۔

اسلام آباد میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے اقتدار سنبھالتے ہی مشکل وقت آن پڑا تھا۔ ہماری ٹیم نئی تھی، کسی چیز کا پتا نہیں تھا۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ اس موقع پر سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو ہمارے لئے بہت مشکل ہوتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت میں رونا دھونا نہیں چاہیے، یہ اللہ کا نظام ہے۔ کرکٹ میں جب مشکل وقت آتا تھا تو پورا تجزیہ کرتا تھا۔ ہم نے مشکل وقت میں غلطیوں سے سیکھنا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی لیڈر شارٹ کٹ سے نہیں بنتا۔ ایسے نہیں ہو سکتا کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن جائے۔ میں قائداعظم کو لیڈر مانتا ہوں جنہوں نے اپنی ذات نہیں بڑے مقصد کے لیے جدوجہد کی۔ دنیا کا کوئی بھی لیڈر کڑی محںت کے ذریعے اوپر آتا ہے۔

عمران خان نے حکومتی کارکردگی کے تین سالوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، ہم مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس گئے، ایسا کرنے سے ان کی شرائط کوبھی ماننا پڑتا ہے۔ اس کی شرائط کو پورا کریں تو عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد پلوامہ کا واقعہ ہو گیا۔ پلوامہ واقعے پر میں پاک فوج کا شکر گزار ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس ایسی فوج ہے لیکن اپوزیشن فوج پر تنقید کرتی ہے اور اس کے پیچھے پڑی ہے منتخب حکومت کو گرا دے جبکہ بھارتی لابی چاہتی ہے کہ پاکستان کی افواج کو بدنام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے افواج پاکستان کے خلاف پورا محاذ بنایا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی افواج پر اعتماد تھا۔ افواج پاکستان نے نریند مودی کو دلیرانہ جواب دیا۔

پاکستان میں عالمی وبا کے سدباب کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور ان کا دیگر ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم غلط فیصلہ کر لیتے تو بھارت کی طرح لوگوں نے بھوکے مرنا تھا۔ پارلیمنٹ میں مجھے اپوزیشن نے بھارت کی طرح لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا لیکن این سی او سی نے بڑے اچھے فیصلے کیے، میں ڈاکٹر فیصل سلطان اور اسد عمر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے پریشر ڈالا لیکن ہم نے غریب آدمی کا سوچا۔ اسی وجہ سے اللہ نے ہمیں بچا لیا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی کورونا پالیسی کو سراہا۔