تازہ ترین
  • بریکنگ :- حکومت کی عوام دوستی کاجذبہ ان کی ترجیحات سےظاہرہوتاہے،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت مزید 86تحصیلوں میں ریسکیوسروس شروع کررہی ہے،مشیراطلاعات
  • بریکنگ :- 27 اضلاع میں ریسکیوبائیک سروس شروع کررہےہیں،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- اسپتالوں کی اپ گریڈیشن،مفت ادویات سےغریبوں نےسکھ کاسانس لیا،عمرسرفراز
  • بریکنگ :- وزیرآبادانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بستروں کی تعداد 100 سےبڑھائی جارہی ہے،عمرسرفراز
  • بریکنگ :- لاہور:وفاقی حکومت نےمہنگائی کاپہاڑکھڑاکیا،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت عوام کوریلیف دینےکیلئےاقدامات کررہی ہے،عمرسرفرازچیمہ

پی ٹی آئی اور ق لیگ کا پنجاب میں وزارتوں کے حوالے سے فارمولہ طے

Published On 28 March,2022 07:05 pm

لاہور:(لیاقت انصاری) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ(ق) کے درمیان پنجاب میں وزارتوں کے حوالے سے فارمولہ طے پاگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے مطابق پنجاب کی وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ق کے پاس ہوگی، سپیکر تحریک انصاف سے ہوگا۔

اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ سینئر وزیر بھی تحریک انصاف کا ہو گا، وزارتوں کا پہلے والا فارمولہ اسی طرح برقرار رہے گا۔ 

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دیا

 پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک آنے کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کر دیا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ چودھری پرویز الہی کی وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملاقات ہوئی، ملاقات میں تمام معاملات طے ہوگئے۔ ق لیگ کا وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار اور حمائیت کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ وزیراعلی عثمان بزدار نے اپنا استعفی وزیر اعظم کو پیش کردیا۔

فرخ حبیب نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلی نامزد کرنے فیصلہ کر لیا۔

چودھری پرویز الٰہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے: فرخ حبیب

دوسری طرف دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب نے مزید کہا کہ انشااللہ عدم اعتماد ناکام ہونے جارہی ہے،فرخ حبیب مقصود چپڑاسی،فالودے والوں کا جیل جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے، پہلے کہا تھا عدم اعتماد ناکام ہوگی، چوروں کے ٹولے کوپہلا سرپرائزمل گیا ہے۔ عثمان بزدارنے اپنا استعفی پیش کردیا ہے، چودھری پرویزالہی پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے، اپوزیشن توفارغ ہوگئی ہے۔ بلاول بچہ ان کی باتوں کا برا نہیں مناتے، اب اپوزیشن کی الٹی گنتی کا وقت شروع ہوچکا ہے۔

پی ٹی آئی پرویز الٰہی کی بطورِ وزیراعلیٰ حمایت کرے گی: شہباز گل

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر سپورٹ کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلی کے امیدوار کے طور پر سپورٹ کریں گے۔ ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا۔

پرویز الٰہی کی وزیراعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات

اس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالہ پہنچے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الہی, چودھری سالک موجود ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قرشی، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عثمان بزدار کیخلاف عدم اعتماد، حکومتی وفد کی سپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر حکومتی وفد نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ملاقات کی جس کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی وفد میں وفاقی وزرا اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک شامل ہیں جبکہ ق لیگ کے وفد میں چودھری شجاعت ،پرویز الٰہی، مونس الٰہی اور طارق بشیر چیمہ شامل ہیں۔

حکومتی وفد نے اتحادی جماعت ق لیگ کو منانے کی کوشش کرتے ہوئے حمایت کی درخواست کی۔

عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

وفاق کے بعد اپوزیشن نے پنجاب میں بھی محاذ سنبھال لیا اور صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروادی۔

پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی رانا مشہود ، سمیع اللہ خان ، میاں نصیر اور دیگر اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اسمبلی میں جمع کرائی۔

عدم اعتماد کی تحریک پر ن لیگ اور پی پی پی سمیت 126 ارکان کے دستخط ہیں اور اجلاس بلانے کی ریکوزیشن پر 119 ارکان کے دستخط ہیں۔

پرویز الہی کو عدم اعتماد کی تحریک کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔ سپیکر نے کہا کہ قانونی ضابطے اور اسمبلی قواعد پر مکمل عمل ہوگا، عدم اعتماد کی تحریک پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد وزیر اعلی عثمان بزدار پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کرسکیں گے اور 14 دن میں پرویز الٰہی اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔