تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیرداخلہ راناثنااللہ سےکمانڈنٹ فرنٹیئرکانسٹیبلری صلاح الدین محسودکی ملاقات
  • بریکنگ :- امن وامان برقراررکھنےمیں ایف سی کےکرداراورپیشہ ورانہ امورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- امن وامان میں ایف سی کاکرداربہت اہم اورقابل ستائش ہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- خیبرپختونخوامیں امن وامان برقراررکھنےمیں ایف سی کاموثرکردارہے،وزیرداخلہ
  • بریکنگ :- لانگ مارچ کےدوران ایف سی نےپولیس کوبہت سپورٹ دی،رانا ثنااللہ
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی کےشرپسندوں کےہاتھوں ایف سی کےکئی اہلکارزخمی ہوئے،راناثنااللہ

سیاسی عدم استحکام کا حل عام انتخابات؟

Published On 12 May,2022 09:20 am

لاہور: (خاور گھمن) ہر گزرتے دن کے ساتھ ملکی سیاسی بحران میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے جب سیاسی عدم استحکام ہوگا تو اس کے اثرات ملکی معاشی، انتظامی اور سماجی امور پر بھی پڑیں گے اور ہمیں ایسا ہی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ڈالر کی اڑان کسی کی پکڑ میں نہیں آرہی۔ سٹاک ایکسچینج کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں سے بھی کوئی اچھی خبریں نہیں مل رہیں۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے باقی کاروبار زندگی بھی کافی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں بھی ہر روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

موجودہ حکومت کو اس لیے بھی زیادہ تنقید کا سامنا ہے کہ ان کے پاس تجربہ بہت زیادہ موجود ہے۔ ایک تجربہ کار ٹیم بھی موجود ہے جس کی بدولت جب وہ اپوزیشن میں تھے تو ہر روز دعویٰ کرتے ہوئے سنائی دیتے تھے کے جب وہ حکومت میں آئیں گے لوگ دیکھیں گے ہفتوں میں نہیں دنوں میں حالات میں بہتری آئے گی لیکن فی الوقت حالات اس کے بر عکس نظر آرہے ہیں۔

ظاہر ہے موجودہ حکومتی ڈھانچے کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور عمران خان صاحب وزیر اعظم بنے پی ڈی ایم سڑکوں پر موجود رہی اور ان کی صرف اور صرف ایک ہی ڈیمانڈ تھی اور وہ تھی عام اتنخابات۔ تمام سابقہ اپوزیشن اور موجودہ حکومتی سیاسی جماعتوں کی رائے میں عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے مسند اقتدار پر بٹھایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ مولانا فضل الرحمان شروع دن سے ہی کہتے رہے ہیں کہ موجودہ پارلیمان حرام ہے ، مطلب چوری شدہ مینڈیٹ کی وجہ سے معرض وجود میں آئی ہے لہٰذا اس کو جتنی جلدی ہو سکے گھر بھجوا دینا چاہیے۔ جس کے لیے انہوں نے پہلے تن تنہا لانگ مارچ کیا۔ اس کے بعد پی ڈی ایم کے بینر تلے پورے ملک میں جلسے بھی کیے۔ اس دوران ایک ہی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ جتنا جلدی ہو سکے نئے انتخابات کروا دیے جائیں لیکن اس کے بعد خدا کی کرنی ایسی ہوئی اور پاکستانیوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح پی ڈی ایم کے لیے موجودہ پارلیمان نہ صرف حلال قرار پائی بلکہ وہ اب چاہتے ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر یعنی آئندہ سال اکتوبر میں ہوں۔

دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان پورے ملک میں طوفانی جلسے کر رہے ہیں۔ ہر گزرتے جلسے کے ساتھ ان کا سازش والا بیانیہ بھی عوام میں مقبول ہو رہا ہے۔ پہلے پی ڈی ایم کی تمام سیاسی جماعتیں جلد انتخابات کا مطالبہ کررہی تھیں اور اب وہی تقاضا عمران خان اور تحریک انصاف والے کررہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اصل معنوں میں پی ڈی ایم اور تحریک انصاف نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ تبدیل کر لی ہے۔ اس معاملے کو لے کر آج کل شہر اقتدار میں بحث و مباحثہ ہو رہا ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران کیا ہو گا؟

ایک بات جس پر تمام با خبر حضرات متفق ہیں وہ یہ ہے کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کا واحد حل صاف، شفاف اور منصفانہ عام انتخابات ہیں۔ اسی سوال کو لے کر جب ہماری بات موجودہ حکومتی سیاسی جماعتوں کے لوگوں سے ہوئی تو وہ بظاہر تو مانتے ہیں کہ انتخابات ہی موجودہ سیاسی تناؤ کو ختم کرنے کا واحد حل ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ خدشے کا ظہار کرتے ہیں کہ اب اگر وہ جلد انتخابات پر راضی ہوتے ہیں تو یہ ان کی ہار تصور کی جائے گی اور ہم الیکشن پر جانے سے پہلے ہی تحریک انصاف کے مقابلے میں الیکشن ہار جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ انتخابات تو ہونے ہی ہیں جلدی نہ سہی تو آئندہ سال اس لیے پی ڈی ایم کو بہت جلد اس حوالے سے ایک واضح بیانیہ اپنانا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے خاص طور ن لیگی قیادت آجکل سب سے زیادہ تذبذب کا شکار ہے۔ پارٹی کے اندر ایک حصے کا خیال ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے انتخابات کی طرف چلے جانا چاہیے۔ جتنا دیر سے جائیں گے اتنا زیادہ نقصان ہوگا۔پارٹی میں اب ایک اچھا خاصا طبقہ وہ بھی موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ اب اگر ڈھول گلے میں ڈال ہی لیا ہے تو بہتر ہو گا اس کو پوری طرح بجایا جائے مطلب باقی ماندہ مدت پوری کی جائے ،اپنے حلقوں میں جتنا ہو سکے ترقیاتی کام کروائے جائیں اور اگر قومی سطح پر معیشت سنبھل جاتی ہے تو اس کا بھی فائدہ گا۔ ظاہر ہے سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے۔ اس حوالے سے بظاہر معاشی عشارئیے تو اچھے نہیںجن کو بہتر بنانے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات اٹھانے ہوں گے لیکن دوست ممالک سے پیسے ملنے کے ساتھ ساتھ اگر آئی ایم ایف سے آسان شرائط پر قرضہ مل جائے تو بات بن سکتی ہے۔ یہ سب کچھ ہونے کے لیے کافی اگر مگر موجود ہیں۔

دوسری طرف جب ہماری بات تحریک انصاف والوں سے ہوتی ہے توان کو باتوں سے صاف لگتا ہے کہ وہ اپنی سب کشتیاں جلا چکے ہیں۔ وہ انتخابات سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے ۔ کیا ایسا ہوتا ہوا ممکن لگ رہا ہے؟ اس حوالے سے جب باخبر ذرائع سے بات ہوئی تو زیادہ تر افراد کی رائے کے مطابق حل تو یہی ہے جس کے ذریعے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر انتخابات کو جلدی ہونا ہے تو اس کے راستے میں فی الوقت کافی رکاوٹیں موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت ہے اور جب تک اس اتحاد میں موجود سیاسی جماعتیں اس بات پر راضی نہیں ہوںگی انتخابات نہیں ہو سکتے۔ اس کے بعد ظاہر ہے الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ کو بتا چکا ہے کہ وہ سات آٹھ مہینے بعد ہی انتخابات کروانے کے انتظامات کرا سکتا ہے۔اس سب کے باوجود چند باخبر ذرائع کا خیال ہے جب مقتدرہ حلقے ملک میں انتخابات پر راضی ہو جائیں گے تو باقی سارے ادارے بھی تیار ہی سمجھیں۔ اب لگ یہی رہا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے انتخابات کے حوالے سے سوچ بچار کر رہے ہیںاور امید یہی ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ جلدی ہو جائے گا۔