تازہ ترین
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قدرمیں 50 پیسےکمی
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ میں ڈالر 208 روپےپرپہنچ گیا
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر کی قدرمیں 46 پیسےاضافہ
  • بریکنگ :- انٹربینک میں ڈالر 207 روپے 94 پیسےپربند

میری انتونیت: فرانس کی شاہ خرچ ملکہ انقلاب کا سبب بنی

Published On 25 May,2022 09:13 am

لاہور: (خاور نیازی) تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ایک دفعہ فرانس میں قحط پھوٹ پڑا،لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو شاہی محل کی بالکونی پر کھڑی ملکہ نے حیرت سے اپنی ایک خادمہ سے پوچھا کہ یہ لوگ سراپا احتجاج کیوں ہیں ؟۔جب انہیں ملک میں پھیلے قحط کی بابت بتایا گیا تو ملکہ نے نہایت معصومیت سے جواب دیا،اگر یہ لوگ بھوکے ہیں تو پھر کیک کیوں نہیں کھا لیتے؟ یہ تاریخی جملہ انقلاب فرانس سے پہلے کی ملکہ فرانس ، میری انتونیت کا تھا۔

ملکہ بننے سے پہلے میری انتونیت نے فرانس کے لوگوں کو اس قدر مسحور کر دیا تھا کہ لوگ اسے دیکھتے رہ گئے۔ فرانس کی تاریخ پر کام کرنے والا ایک نامور امریکی مصنف ول بشر اپنی ایک نئی کتاب ’’ میری انتونیت کا سر ‘‘ میں لکھتا ہے ، جب یہ نوعمری میں ایک مرتبہ فرانس کے دارلحکومت پیرس میں پہلی بار عوام کے سامنے نمودار ہوئی تو پچاس ہزار افراد کا ہجوم اس قدر بے قابو ہو گیا کہ کم ازکم تیس ہزار افراد کچلے گئے۔ آگے چل کر ول بشر ایک جگہ لکھتا ہے کہ شاہی مشاط (بال سنوارنے والا)لیونارڈ اوٹبے ملکہ کے بال ایسے بناتا کہ ان کا جوڑا تقریباً چار فٹ بلند رہتا اور نہ گرتا۔ اوٹبے ان کے بالوں کو خوش رنگ پروں اور سونے کی سوئیوں سے حیرت انگیز طور پر سنوارتا کہ دیکھنے والے ششدر رہ جاتے۔

یہ ذکر رومن شہنشاہ فرانسس اوّل اور طاقتور ملکہ ماریا تریسا کی سب سے چھوٹی بیٹی میری انتونیت کا ہے جو 1755 میں آسٹریا کے شہر ویانا میں پیدا ہوئی۔ابھی یہ بمشکل چودہ سال کی ہو گی جب آسٹریا کے دیرینہ دشمن فرانس کے ساتھ نئے اتحاد کی مضبوطی کے لئے آسٹریا کے شاہی خاندان نے یہ طے کیا کہ فرانسیسی تخت کے پندرہ سالہ وارث ڈافن لوئی آگسٹ کے ساتھ میری انتونیت کو رشتہء ازدواج میں منسلک کر کے دونوں ملکوں کے درمیان نئے تعلقات کی بنیاد رکھی جائے۔ 16 مئی 1770کو دریائے رائن کے بیچ ایک خوبصورت جزیرے پر شادی کی ایک پر وقار تقریب کے بعد میری انتونیت کو ورسائے محل لے جایا گیااور یوں سالوں پر پھیلی دیرینہ دشمنی کو ختم کرکے بظاہر دوستی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی گئی۔1770 میں لوئی سولہویں بادشاہ کا منصب سنبھال چکے تھے۔شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد میری انتونیت بہتان ، تنقید اور الزامات کی زد میں رہی۔ سب سے پہلے اس پر بے اولادی کا الزام لگا جوسات سال تک جاری رہا۔ سات سال بعد جب اس نے ایک بیٹی کوجنم دیاتو1785 میں الزامات کا سلسلہ ہیروں کے ایک ہار کی چوری پرآکر رک گیا۔

تاہم ان سب الزامات کے ساتھ ساتھ جس الزام نے اسکی سیاسی اور سماجی ساکھ کو متاثر کیا وہ فرانس کی ملکہ ہونے کے باوجود اس کا آسٹریا کی طرف واضح جھکاؤ اور کچھ غیر متعلقہ لوگوں کو مالی فوائد پہنچانا تھا جس کے سبب 1770اور 1780 کی دہائی میں فرانس کی معیشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا۔اس کی ایک بڑی وجہ سولہویں لوئی کے تخت نشین ہونے کے بعد اور انقلاب فرانس سے پہلے تک فرانس کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کو اپنے کمزور خاوند کی وجہ سے اپنی گرفت میں رکھنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی زندگی میں اوراس کے بعد بھی تاریخ کی کتابوں میں ’’ شاہ خرچ ملکہ ‘‘ کے لقب سے جانی جانے لگی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک طر ف فرانس بھر کے دیہاتوں میں لوگ قحط اور خشک سالی کے باعث بھوکوں مر رہے تھے وہیں دوسری طرف ملکہ میری انتونیت ورسائے محل کے آغوش میں اپنی ذہنی تسکین کے لئے ایک مثالی گاؤں ’’ پیٹیٹ ہیمو ‘‘ تعمیر کرا رہی تھی۔

14جولائی 1789کو ایک ہجوم نے باسٹل پر دھاوا بولا تو ملکہ نے لوئی کو میٹز میں اپنی فوج کے ساتھ پناہ لینے پر قائل کرنے کی کوشش کی جس سے لوئی نے اتفاق نہ کیا۔جس کے بعد فرانس میں بد امنی پھیل گئی جو بلا ٓخر ستمبر 1792 میں ہزار سالہ بادشاہت کے خاتمے کا سبب بنی۔ جس کے دوران بادشاہ سولہویں لوئی کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد ایک انقلابی عدالت میں سابقہ ملکہ میری انتونیت پر بغاوت اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا ۔

اس دوران ملکہ کے ساتھ اسکی وفادار دیرینہ دوست شہزادی ڈی لامبل کا ساتھ قید تک رہا۔3ستمبر 1792کو میری انتونیت کی دوست ڈی لامبل کا سر کاٹ کر سابقہ ملکہ کی کھڑکیوں کے باہر نیزے پر لٹکا دیا۔ اس کے بعد ملکہ کے خلاف دوروزہ مقدمہ چلا جس میں ملکہ کو تمام الزامات میں مجرم قرار دئیے جانے کی پاداش میں سزائے موت سنا دی گئی۔ چنانچہ اگلے روز 16اکتوبر 1793ہزاروں لوگوں کے ہجوم کے سامنے ملکہ کا سر قلم کر دیا گیا۔ملکہ کو مارنے کے بعد ان کے تابوت کو،میڈیلین چرچ کے پیچھے ایک گم نام اجتماعی قبر میں پھینک دیا گیا۔ 1815میں جب اٹھارویں لوئی بادشاہ کو نپولین کی جلاوطنی کے بعد تخت واپس ملا تو انکے حکم پر انکے بڑے بھائی سولہویں لوئی اور ملکہ میری انتونیت کی قبر کشائی کر کے از سر نو فرانس کے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ سینٹ ڈینس کے باسیلیکا کیتھیڈرل میں تدفین کی گئی۔

ملکہ انتونیت کے زیورات کی نیلامی

آج سے تین سال پہلے ملکہ انتونیت کے زیر استعمال موتی اور ہیرے جڑے ہار کی نیلامی سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تین کروڑ ڈالر میں ہوئی تھی جو کسی بھی فروخت ہونے والے موتی کے لئے عالمی ریکارڈ ہے۔

خاور نیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی مضوعات پر مہارت رکھتے ہیں۔