پاکستان کا نیا وزیراعظم کون؟ کانٹے کے مقابلے، فیصلہ آج

Published On 08 February,2024 12:04 am

لاہور: (فرحان نذیر) پاکستان میں سیاست کب کیا رُخ اختیار کر جائے کسی کو کچھ معلوم نہیں، بڑے بڑے سیاستدان، تبصرہ کار، تجزیہ نگار بھی اس بارے میں صرف اندازے لگانے تک محدود رہتے ہیں، ملک میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ 12 کروڑ 85 لاکھ سے زائد ووٹرز آج فیصلہ کریں گے۔

کون سی جماعت الیکشن جیت کر فتح کا تاج اپنے سر پہنے گی؟، اقتدار کی عنان کس کے ہاتھ میں آئے گی، کس سیاسی جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی، آنے والی حکومت سادہ اکثریت حاصل کرے گی یا دو تہائی اکثریت کی مستحق ٹھہرے گی؟۔

کونسی جماعت کس کے ساتھ اتحاد کرے گی، دھاندلی ہو گی یا نہیں، الیکشن مینجمنٹ سسٹم کامیاب ہوگا یا وہ بھی آر ٹی ایس کی طرح بیٹھ جائے گا، نوجوان، خواتین، بزرگ ووٹ کے لیے نکلیں گے یا مایوس ہو کر گھر بیٹھے رہیں گے؟ ان سب سوالوں کا جواب آج مل جائے گا۔

عوام کے لیے مرضی کا امیدوار چننے کی گھڑی قریب آ گئی، آج سب سے بڑی عوامی عدالت لگے گی، امیدواروں کے وعدے، دعوے، یقین دہانیاں اور ارادے سب کے سامنے لیکن ووٹرز کے دل میں کیا ہے یہ آج پتہ چلے گا، عوام ووٹ کی پرچی سے آج اپنا آخری فیصلہ سنائیں گے۔

کراچی سے خیبر تک، لاہور سے پشاور تک سیاسی رہنماؤں نے ووٹرز کو رام کرنے کے لیے سب گُر آزمائے، تمام جتن کیے، بلند و بالا دعوؤں کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے رہے، اب عوام کی باری ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پولنگ کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہو گی، ووٹرز کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے اصلی شناختی کارڈ لازمی ہے، زائد المیعاد شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالا جا سکے گا، میڈیا پولنگ کے اختتام کے ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد نتائج نشر کر سکتا ہے، میڈیا پر یہ واضح طور پر بتایا جائے گا کہ یہ رزلٹ غیر حتمی و غیر سرکاری ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق ریٹرننگ آفیسرز پولنگ سٹیشنز کا مکمل غیرحتمی رزلٹ جاری کریں گے، میڈیا انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی کرے گا، خلاف ورزی پر پیمرا اور پی ٹی اے کو قانونی کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

صوبہ بھر میں الیکشن کے انتظامات کو مانیٹر کیا جا رہا ہے، حساس پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے، دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے متعدد اضلاع میں پاک فوج کے جوان پہنچ گئے، محکمہ داخلہ کے مطابق تمام اضلاع اس سلسلے میں پاک فوج سے رابطے میں ہیں، الیکشن میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی شق نمبر 48 اور 49 کے مطابق پولنگ سٹیشن کے 400 میٹر کی حدود میں کسی قسم کی مہم، ووٹرز کو ووٹ کے لئے قائل کرنے، ووٹر سے ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی التجا کرنے اور کسی خاص امیدوار کے لئے مہم چلانے پر پابندی ہوگی۔

اسی طرح 100 میٹر کے اندر کسی خاص امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے ووٹرز کی حوصلہ افزائی یا اس کو ووٹ نہ ڈالنے کیلئے حوصلہ شکنی پر مشتمل نوٹس، علامات، بینرز یا جھنڈے لگانے پر مکمل طور پر پابندی ہو گی جبکہ سیاسی جماعتیں، امیدواران، الیکشن ایجنٹ یا ان کے حمایتی پولنگ والے دن دیہی علاقوں میں پولنگ سٹیشن سے 400 میٹر کے فاصلے پر اور گنجان آبادی والے شہری علاقوں میں 100 میٹر کے فاصلے پر اپنے کیمپ لگا سکیں گے۔

عام انتخابات کیلئے پولنگ کے سامان کی ترسیل بھی مکمل

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ملازمین نے محدود وقت میں اپنی محنت اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے اہم ذمہ داری کی تکمیل کی، بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل زمینی اور ہوائی دونوں طریقوں سے مکمل کیا گیا ہے، چیلنجز کے باوجود کمیشن نے وقت پر یہ کام مکمل کیا تاکہ تمام ووٹرز ملکی انتخابات میں بہترین اور منظم طور پر شرکت کر سکیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابات کیلئے 7 لاکھ بیلٹ باکس کا انتظام کیا جبکہ ووٹنگ کیلئے 2 لاکھ 76 ہزار سے زائد پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، ہر پولنگ بوتھ پر دو بیلٹ باکس رکھے گئے ہیں، ایک بیلٹ باکس میں قومی اسمبلی اور دوسرے میں صوبائی اسمبلی کیلئے ووٹ کاسٹ ہوں گے۔

ملک بھرمیں 5 لاکھ 52 ہزار بیلٹ باکس استعمال ہوں گے جبکہ ڈیڑھ لاکھ ریزرو رکھے جائیں گے، بیلٹ باکس بھرجانے پر دوسرا بیلٹ باکس فراہم کیا جائے گا، بیلٹ پیپرز کی متعلقہ علاقوں میں ترسیل بھی مکمل ہو چکی ہے۔

پاکستان میں کل ووٹرز کی تعداد

الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات 2024 میں نوجوان، خواتین اور بزرگ ووٹرز کی تعداد کے اعداد و شمار جاری کر دیئے، الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان کے کل ووٹرز کی تعداد بارہ کروڑ 85 لاکھ 85 ہزار 760 ہے جن میں 5 کروڑ 59 لاکھ 25 ہزار 940 نوجوان ووٹرزہیں جو کل ووٹرز کا 43.85 فیصد بنتا ہے، ان ووٹرز کی عمر 18 سے 35 سال تک ہے، نوجوان ووٹرز میں 53.87 فیصد مرد اور 6.13 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔

ان انتخابات میں ایک کروڑ بائیس لاکھ 43 ہزار477 وہ نوجوان ہیں جو پہلی بار انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں، یہ کل ووٹرز کا 9.60 فیصد ہیں، واضح رہے پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے والوں کی شرح ہمیشہ سے کافی زیادہ رہتی ہے۔

سال 2018 کے انتخابات میں 5 کروڑ 28 لاکھ 57 ہزار 536 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا جو کُل ووٹرز کا 52 فیصد تھا، اگر اس بار بھی ٹرن آؤٹ کی شرح 50 سے 60 فیصد رہی تو43 فیصد سے زائد نوجوانوں کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

رجسٹرڈ ووٹرز کے تناسب سے کونسا حلقہ بڑا؟ کونسا چھوٹا؟

فافن کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے رجسٹرڈ ووٹرز کے تناسب سے متعلق رپورٹ کے مطابق این اے 67 حافظ آباد میں سب سے زیادہ 8 لاکھ 10 ہزار 723 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، حلقہ این اے 244 میں سب سے کم ووٹ ایک لاکھ 55 ہزار 824 ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ این اے 18 ہری پور ہے، این اے 18 ہری پور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 24 ہزار 915 ہے، خیبرپختونخوا میں این اے 12 کوہستان میں سب سے کم ایک لاکھ 96 ہزار 125 ووٹرز ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں این اے 209 سانگھڑ ووٹرز کے اعتبار سے سب سے بڑا حلقہ ہے، این اے 209 سانگھڑ میں 6 لاکھ 7 ہزار 638 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، سندھ میں این اے 244 کراچی میں سب سے کم ایک لاکھ 55 ہزار 824 ووٹرز ہیں، بلوچستان میں این اے 255 میں سب سے زیادہ 5 لاکھ 32ہزار 537 ووٹرز ہیں۔

فافن نے مزید کہا کہ پنجاب میں سب سے کم رجسٹرڈ ووٹرز این اے 124 لاہور میں 3 لاکھ 10 ہزار 116 ہیں، اسلام آباد کے تین حلقوں میں این اے 47 سب سے بڑا حلقہ ہے جہاں 4 لاکھ 33 ہزار 202 ووٹرز ہیں، این اے 48 ووٹرز کے اعتبار سے چھوٹا حلقہ ہے جہاں 2 لاکھ 92 ہزار 380 ووٹرز ہیں جبکہ بلوچستان میں این اے 264 کوئٹہ میں سب سے کم ایک لاکھ 96 ہزار 752 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔

ملک بھر میں 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشنز قائم

عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کے مطابق مردوں کیلئے 25 ہزار 320، خواتین کیلئے 23 ہزار 952 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ملک بھر میں مردوں اور خواتین کیلئے مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 41 ہزار 403 ہے۔

پنجاب

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں مجموعی طور پر 50 ہزار 944 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، پنجاب میں مردوں کیلئے 14 ہزار 556، خواتین کیلئے 14 ہزار 36 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جبکہ صوبے میں مردوں اور خواتین کیلئے مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 22 ہزار 352 ہے۔

سندھ

سندھ میں مجموعی طور پر 19 ہزار 6 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، سندھ میں مردوں کیلئے 4 ہزار 443، خواتین کیلئے 4 ہزار 313 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، سندھ میں مردوں اور خواتین کیلئے مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 10 ہزار 250 ہے۔

خیبرپختونخوا

صوبہ خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 15 ہزار 697 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، خیبرپختونخوا میں مردوں کیلئے 4 ہزار 810 جبکہ خواتین کیلئے 4 ہزار 286 پولنگ سٹیشنز بنائے گئے ہیں، خیبرپختونخوا میں مردوں اور خواتین کیلئے 6 ہزار 610 مشترکہ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

بلوچستان

الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 5 ہزار 28 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، بلوچستان میں مردوں کیلئے ایک ہزار 511، خواتین کیلئے ایک ہزار 317 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جبکہ مردوں اور خواتین کیلئے مشترکہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 2 ہزار 200 ہے۔

5 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکارتعینات

الیکشن 2024 کے پُرامن انعقاد کیلئے ملک بھر میں آرمی، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے 5 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، ملک میں کوئیک رسپانس فورس کے 1 لاکھ 6942 اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، 23 ہزار 940 سکیورٹی اہلکار مستقل طور پر الیکشن کے دوران ڈیوٹی سرانجام دینگے۔

پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے 1 لاکھ 30 ہزار 882 اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہوں گے، الیکشن کے پُرامن انعقاد کیلئے ملک بھر میں پولیس کے 4 لاکھ 65 ہزار 736 اہلکاربھی تعینات ہوں گے، آرمی، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے مجموعی طور پر 5 لاکھ 96 ہزار 618 اہلکار الیکشن ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

پنجاب میں الیکشن کیلئے پولیس کے 2 لاکھ 16ہزار اہلکار، سندھ میں 110720، خیبرپختونخوا میں 92535 اور بلوچستان میں 46481 پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ووٹرز کو پُرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

لاہور میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد امیدوار مدمقابل

عام انتخابات 2024 میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 44 نشستوں پر 1079 امیدوار مدمقابل ہیں، لاہور سے قومی اسمبلی کی 14 نشستوں پر 266 امیدوار پنجہ آزمائی کر رہے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے 30 حلقوں میں 813 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

این اے 120 میں سب سے زیادہ 27 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ این اے 118 میں سب سے کم 18 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا، صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 161 میں سب سے زیادہ 46 امیدواروں میں جوڑ پڑے گا جبکہ پی پی 150 میں سب سے کم 13 امیدوار قسمت آزمائیں گے۔

قومی اسمبلی کی نشستوں پر ہونیوالے کانٹے کے مقابلے

ملک بھر میں قومی اسمبلی کی متعدد نشستوں پر امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، قومی اسمبلی میں ہونے والے بڑے مقابلوں والے حلقے یہ ہیں۔

این اے 130 لاہور 14

لاہور کا سب سے بڑا سیاسی معرکہ قومی اسمبلی کی اسی نشست پر ہوگا، یہاں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش لیے میدان میں ہیں، تاہم یہاں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد سے ہوگا۔

این اے 6 لوئر دیر 1

قومی اسمبلی کی اس نشست پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے سامنے آزاد امیدوار محمد بشیر خان ہیں جہاں کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

این اے 24 چارسدہ 1

خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ انتخابی میدان میں ہیں، یہاں آزاد امیدواروں کے ساتھ ان کے کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

این اے 25 چارسدہ 2

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایمل ولی خان اس نشست سے اپنی قسمت آزمائیں گے ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار فضل محمد خان ہیں جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے، فضل محمد خان نے گزشتہ انتخابات میں اس نشست پر ایمل کے والد اے این پی سربراہ اسفندیار ولی خان کو شکست دی تھی۔

این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان 1

خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر گھمسان کی جنگ دیکھنے کو ملے گی، یہاں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امید وار علی امین گنڈا پور اور پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان فیصل کریم کنڈی میدان میں ہیں۔

این اے 71 سیالکوٹ 2

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 71 سیالکوٹ 2 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ محمد آصف اس وقت مضبوط امیدوار دکھائی دے رہے ہیں تاہم ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ریحانہ امتیاز ڈار ہیں، ریحانہ امتیاز ڈار سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کی والدہ ہیں۔

این اے 119 لاہور 3

لاہور میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کے سامنے آزاد امیدوار شہزاد فاروق اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے محمد ظہیر ہیں، اس حلقے میں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

این اے 122 لاہور 6

اس حلقے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں حال ہی میں تحریک انصاف کا حصہ بننے والے لطیف کھوسہ بطور آزاد امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں، تاہم ان کے سامنے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق ہیں جو گزشتہ عام انتخابات میں بانی پی ٹی آئی کے مقابلے میں ہار گئے تھے تاہم بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سیٹ چھوڑنے پر وہ ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوگئے تھے۔

این اے 123 لاہور 7

لاہور سے قومی اسمبلی کے اس حلقے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف جیت کی امید کے ساتھ انتخابی میدان میں ہیں، یہاں جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور شہباز شریف کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

این اے 127 لاہور 11

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری قومی اسمبلی کےلیے این اے 127 لاہور 11 سے بھی انتخابی میدان مارنے کے لیے پُرجوش ہیں، تاہم یہاں سندھ کی نسبت زیادہ مضبوط حریف مسلم لیگ (ن) کے عطا اللہ تارڑ ہیں جبکہ اسی حلقے کے آزاد امیدوار ملک ظہیر عباس کھوکھر کو بھی بھاری تعداد میں ووٹ ملنے کی امید ہے۔

این اے 148 ملتان 1

قومی اسمبلی کی اس نشست پر سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر یوسف رضا گیلانی میدان میں ہیں، ان کے سامنے پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے احمد حسین ڈہر سے ہے۔

این اے 149 ملتان 2

ملتان کا سب سے بڑا دنگل اسی نشست پر ہونے والا ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ جہانگیر ترین انتخابی میدان میں ہیں، ان کے سامنے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ملک محمد عامر ڈوگر ہیں، اسی حلقے میں سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی عامر ڈوگر کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

این اے 151 ملتان 4

ملتان میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر سابق وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔ یہاں ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی رہنما یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسیٰ گیلانی ہیں اور دونوں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

این اے 194 لاڑکانہ 1

قومی اسمبلی کے اس حلقے میں بھی چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری میدان میں ہیں اور یہاں ان کے مد مقابل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے راشد محمود سومرو ہیں، دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان گزشتہ انتخابات میں بھی کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا جس میں بلاول بھٹو کامیاب رہے۔

این اے 196 قمبرشہداد کوٹ 1

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری سندھ میں موجود قومی اسمبلی کی اس نشست پر بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ان کے سامنے راشد محمود سومرو کے بھائی ناصر محمود سومرو ہیں۔

این اے 201 سکھر 2

سکھر کی اس نشست پر سابق قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی سید خورشید شاہ انتخابی میدان میں ہیں اور یہاں ان کے سامنے آزاد امیدوار سید طاہر حسین شاہ ہیں، اس نشست پر کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

این اے 202 خیرپور 1

خیرپور کے اس سیاسی اکھاڑے پر زبردست مقابلے کی توقع کی جارہی ہے، قومی اسمبلی کی اس نشست پر پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ کے سامنے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے غوث علی شاہ ہیں۔

این اے 203 خیرپور 2

خیرپور کی ایک اور نشست پر پیپلز پارٹی اور جی ڈی اے میں دنگل ہو گا، یہاں پی پی کے پیر سید فضل علی شاہ اور مسلم لیگ (ف) کے سربراہ پیر سید صدرالدین شاہ راشدی انتخابی میدان میں ہیں۔

این اے 207 شہید بینظیر آباد 1

قومی اسمبلی کی اس نشست پر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری بڑے نام ہیں جن کا مقابلہ آزاد امیدوار سردار شیر محمد رند سے ہے۔

این اے 210 سانگھڑ 2

قومی اسمبلی کی اس نشست پر اپنے بے باک تبصروں اور تنقید کے باعث مشہور جی ڈی اے رہنما سائرہ بانو انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، لیکن ان کے سامنے پیپلز پارٹی کے صلاح الدین جونیجو ہوں گے جو ان کی جیت میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

این اے 236 کراچی ایسٹ 2

قومی اسمبلی کی اس نشست پر بھی کراچی میں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے، یہاں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد عالمگیر خان، جماعت اسلامی کے محمد اسامہ رضی خان، پیپلز پارٹی کے محمد مزمل قریشی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

این اے 239 کراچی ساؤتھ 1

کراچی میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر ٹی ایل پی کے امیدوار محمد شرجیل گویلانی اچھی پوزیشن میں ہیں تاہم ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے نبیل احمد گبول اور آزاد امیدوار عبدالشکور شاد سے ہونے کی توقع ہے۔

این اے 241 کراچی ساؤتھ 3

کراچی میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار خرم شیر زمان، پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ اور جماعت اسلامی کے نوید علی بیگ کے درمیان گھمسان کی جنگ ہونے والی ہے۔

این اے 246 کراچی ویسٹ 3

کراچی میں قومی اسمبلی کی اس نشست پر بھی بڑا انتخابی دنگل لگے گا، یہاں مقابلے میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما امین الحق میدان میں ہیں، اے این پی پہلے ہی اس نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔

این اے 250 کراچی سینٹرل 4

قومی اسمبلی کی اس نشست پر بھی جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان میدان میں ہیں لیکن یہاں ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے سہیل منصور خواجہ سے ہے۔

این اے 259 کیچ گوادر

قومی اسمبلی کی اس نشست پر نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ووٹوں کی گنتی میں سب سے آگے نکلنے کے خواہش مند ہیں، تاہم یہاں ان کے سامنے آزاد امیدوار یعقوب بزنجو اور حق دو تحریک بلوچستان کے حسین بلوچ کی صورت میں رکاوٹیں موجود ہیں۔

این اے 265 پشین

جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمان اس نشست پر بلوچستان سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سابق گورنر بلوچستان ظہور آغا بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔

آر ٹی ایس، آر ایم ای کی چھٹی! انتخابی نتائج کیلئے جدید سسٹم تیار

انتخابی نتائج کیلئے آرٹی ایس اور آر ایم ای کی چھٹی کرا دی گئی، الیکشن کمیشن نے جدید الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) تیار کر لیا، جدید سافٹ ویئر 32 کروڑ کی لاگت سے نجی کمپنی سے تیار کرایا گیا، ای ایم ایس انٹرنیٹ سے نہیں انٹرا نیٹ سے کام کرے گا۔

الیکشن مینجمنٹ سسٹم صرف پولنگ ڈے پر استعمال ہو گا جس میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اس سسٹم میں فارم 45 اور فارم 47 کا ڈیٹا فیڈ کیا جائے گا، ملک بھر میں سسٹم کو آپریٹ کرنے کیلئے ہر صوبائی اسمبلی کے حلقے میں تین آپریٹرجب کہ قومی اسمبلی کے حلقے کیلئے چار آپریٹراور لیپ ٹاپس ہوں گے جو ریٹرننگ افسروں کے دفاتر میں رکھوائے جائیں گے، ہر آر او کے پاس نادرا کا ایک اہلکار بھی ہو گا، ان سسٹم میں فارم 45 اور47 کا ڈیٹا بھی فیڈ کیا جائے گا۔

جدید ای ایم ایس کے آپریٹ کے دوران اگر انٹرنیٹ سروس موجود نہیں ہو گی تب بھی لیپ ٹاپس لوکل ایریا نیٹ ورک (ایل اے این) پر آف لائن موڈ میں کام کرتے رہیں گے، ای ایم ایس میں ایک لیپ ٹاپ سے عوام کیلئے ملٹی میڈیا کے ذریعے نمایاں جگہ پر پروگریسیو نتائج دکھائے جائیں گے، پریذائیڈنگ افسران موبائل سے تصاویر کھینچ کر ریٹرننگ افسران کو نتائج بھیجیں گے اور بعد ازاں خود بھی نتائج جمع کرانےجائیں گے۔

اگر ای ایم ایس میں کوئی کنیکٹیویٹی نہ ہوئی تو یہ تصویر از خود محفوظ ہو جائے گی اور جیسے ہی کنکشن بحال ہوگا تو یہ تصویر اپنی منزل تک پہنچ جائے گی، اگر فارم 45 کچھ گھنٹوں کیلئے جمع نہ ہوا تو فارنسک دستیاب ہو گا، دوسری جانب الیکشن کمیشن حکام نے ای ایم ایس کو ہیک کیے جانے کے حوالے سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سوفٹ ویئر جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس کے سکیورٹی فیچرز غیر معمولی ہیں۔

میڈیا نمائندوں کو الیکشن 2024 سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا حکم

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے میڈیا نمائندوں کو الیکشن 2024 سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنر کو مراسلہ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے سلسلہ میں تمام صوبائی الیکشن کمشنرز اور ترجمان متعلقہ میڈیا ٹیموں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ کریں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ صحافیوں کو عام انتخابات 2024 کے حوالے سے مختلف سرگرمیوں کے بارے میں الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے آگاہ رکھا جائے۔

Advertisement