نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کو 13 ماہ میں ان گنت چیلنجز کا سامنا رہا

Published On 23 February,2024 07:54 am

لاہور: (محمد حسن رضا) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نگران حکومت کا بار سید محسن رضا نقوی اور ان کی کابینہ کے سر آیا، محسن نقوی نے 13 ماہ کی قلیل مدت میں پنجاب میں ان گنت چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اس تیز رفتاری سے ترقیاتی کام کرائے جو منتخب حکومتوں کے ادوار میں بھی ممکن نہ ہو پائے۔

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن رضا نقوی نے ایک ایسا معیار قائم کر دیا جس کو برقرار رکھنا آنے والے حکمرانوں کیلئے کسی چیلنج سے کم نہ ہو گا، ترقیاتی کاموں کے علاوہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور پھر عام انتخابات کا کامیابی سے انعقاد بھی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی انتھک کوششوں اور ویژن کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اسی وجہ سے انہیں محسن سپیڈ کا بھی لقب دیا گیا۔

محسن رضا نقوی کا تنخواہ اور پروٹوکول نہ لینے کا اعلان

محسن رضا نقوی نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالتے ہی پروٹوکول اور سکیورٹی نہ لینے کا اعلان کیا، 13 ماہ کی حکومت میں انہوں نے اور ان کی کابینہ کے کسی وزیر نے تنخواہ اور سرکاری گھر نہیں لیا، وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں صحت کا شعبہ اولین رہا اور اس کیلئے نہ صرف نئے ہسپتالوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا بلکہ صوبے میں پہلے سے موجود ہسپتالوں کو اپ گریڈ بھی کیا گیا۔

نگران پنجاب حکومت کے صحت کے حوالے سے اہم منصوبوں میں پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں علاج معالجے اور دیگر سہولتوں کو بہتر بنانے، لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں 2 گھنٹے کے اندر دل کے مریض کی مفت انجیوگرافی کیلئے فوری انجیوگرافی و سٹنٹنگ کی سہولت کی فراہمی کا فول پروف مانیٹرنگ سسٹم، سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس کو مالی خود مختاری دینے کے فیصلے شامل ہیں۔

متعدد بڑے منصوبے مقررہ مدت سے پہلے مکمل کیے

لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں فلائی اوورز، انڈر پاسز، سگنل فری کوریڈورز، لاہور رنگ روڈ کی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شمولیت، شہروں کے درمیان دورویہ سڑکیں اور باب آزادی واہگہ بارڈر کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبے محسن نقوی کی 13 ماہ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، نگران وزیر اعلیٰ کی انتھک محنت اور لگن کے باعث متعدد منصوبے اپنی مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہوئے اور عوام کے ٹیکس سے بننے والے منصوبوں کی لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی۔

پنجاب کی نگران حکومت نے امن و امان کے قیام کیلئے بھی بہترین اقدامات کیے، لاہور سمیت بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کی جدید خطوط پر تعمیر نو اور نئے شہروں میں سیف سٹی سنٹرز کا افتتاح کیا، اس کے علاوہ نئے پولیس سٹیشنز کا قیام اور پہلے سے موجود سٹیشنز کی تعمیر و ترقی، پنجاب میں 40 سمارٹ پولیس سٹیشنز بنانے اور نئی بم ڈسپوزل رسپانس گاڑیوں کی منظوری بھی دی گئی۔

کچے کے علاقے میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے علاوہ پولیس شہداء کے بچوں کی محکمانہ بھرتی کے طریقہ کار کو آسان بنانے کا حکم جاری کیا گیا، پولیس شہداء کے خاندانوں کیلئے ایک ارب کے فنڈز کی منظوری، خاندانوں کو 35 لاکھ مالی امداد کا اعلان، شہید پولیس افسروں اور جوانوں کی بیواؤں کیلئے مالی امداد 25 سو سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے جیسے شاندار اقدامات شامل ہیں۔

زراعت کی ترقی اور کسانوں کی بہبود کے پروگرام ترجیح رہے

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن رضا نقوی کی ترجیحات میں زراعت کے شعبے کی ترقی اور کسانوں کی بہبود کے پروگرام بھی شامل رہے، کپاس کی کاشت بڑھانے کیلئے ریسرچ کیلئے 100 کروڑ روپے کے فنڈز کے قیام کا اعلان کیا گیا جس سے پنجاب میں 10 برس بعد 45 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کا ہدف شامل کیا گیا۔

زرعی شعبہ کی بہتری، پیداوار میں اضافے اور مارکیٹ تک آسان رسائی کیلئے ٹاسک فورس برائے زراعت قائم کی گئی، کارپوریٹ فارمنگ کیلئے قواعد و ضوابط کی باضابطہ منظوری بھی دی، آٹے کو ضروری اجناس کی کیٹیگری میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، پاسکو سے گندم خریدنے کے فیصلے کی منظوری، زرعی تحقیق، فوڈ سکیورٹی، فاریسٹ اور لائیوسٹاک ریسرچ جیسے اہم اقدامات بھی شامل تھے۔

غریب و نادار افراد کی بہبود بھی نگران پنجاب حکومت کا خاصا رہی

غریب اور نادار افراد کی بہبود کے پروگرام بھی نگران پنجاب حکومت کا خاصا رہے، رمضان میں سستے آٹے کی فراہمی، خصوصی رمضان ریلیف پیکیج کے ذریعے عوام کو ریلیف، شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا، نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع کی فراہمی کیلئے بیرون ممالک بھجوانے کے منصوبے، 5 بڑے شہروں میں شہریوں کی سہولت کیلئے ٹریفک لائسنس کا اجراء، ای گورننس، کیبنٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز، طلباء و طالبات کیلئے مفت سفری سہولت کو یقینی بنایا گیا۔

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی ایڈہاک پر بھرتی کی منظوری، طلبا کو سپیشل سٹوڈنٹ پیکیج، سکولوں کی تاریخی عمارات کی اصل حالت میں بحالی، طلبہ کو مفت یونیفارم، جوتے، سٹیشنری اور نوٹ بکس فراہم کرنے کی اصولی منظوری، ماہانہ سکالر شپ، قیدیوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی، فنکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے انڈوومنٹ فنڈ کا قیام جیسے متعدد منصوبے عوام میں محسن نقوی کی مقبولیت کی وجہ بنے۔

مذہبی مقامات کے توسیع اور صحافیوں کو چھت دینے کے وعدے کی تکمیل

مذکورہ اقدامات کے ساتھ ساتھ محسن نقوی نے عوام کی سہولیات کیلئے مذہبی مقامات کے توسیعی منصوبے بھی شروع کیے جن میں حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار کی توسیع کا منصوبہ، بی بی پاک دامن کے مزار کی توسیع، بادشاہی مسجد کی تزئین وآرائش و بحالی کا پراجیکٹ شامل ہے۔

نگران پنجاب حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی کئی اقدامات اٹھائے، محسن رضا نقوی نے لاہور سمیت صوبہ بھر کے صحافیوں کو اپنی چھت دینے کا وعدہ کیا اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
 

Advertisement