دریا کی گزرگاہوں کو خالی نہ کیا تو ہمیشہ نقصان اٹھاتے رہیں گے: ڈی جی پی ڈی ایم اے

Published On 29 August,2025 01:23 pm

لاہور: (دنیا نیوز) صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ اگر دریا کی گزرگاہوں کو خالی نہ کیا تو ہم ہمیشہ اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کا کہنا تھا کہ فلڈ پلان ایکٹ کے تحت اب آبی گزرگاہوں میں موجود تمام غیرقانونی تعمیرات کو خالی کرایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچا جاسکے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام سے گزرنے والا دو لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا 1988 کے بعد سب سے بڑا تھا، تاہم خوش قسمتی سے شہر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اب شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں مزید کمی متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں سیلابی پانی 9 مقامات پر داخل ہوا، جہاں متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا، اس وقت بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ 7 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے اور یہ پانی ڈاؤن سٹریم سے آگے دریائے راوی میں شامل ہوگا، حکومت نے دریا کی گزرگاہوں میں بسنے والے لوگوں کو سختی سے انخلا کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر طاقت کا استعمال کر کے بھی انخلا کرایا گیا ہے۔

عرفان کاٹھیا نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے مادھوپور ہیڈ ورکس سے مسلسل 80 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، جو لاہور شاہدرہ سے گزر کر آگے چنیوٹ اور پھر رواز برج تک پہنچے گا، ان کے بقول ریواز برج اس وقت حکومت کیلئے سب سے بڑی تشویش ہے اور اس مقام پر بند توڑنے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے تاکہ جھنگ کو محفوظ رکھا جاسکے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پچھلے چار روز سے قصور کے قریب دریائے ستلج میں 2 لاکھ سے زائد کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے، جس کے باعث سلیمانکی کے مقام پر صورتحال خطرناک ہوتی جارہی ہے، صوبے میں اب تک ایک ہزار سات سو انہتر مواضعات زیر آب آچکے ہیں، 14 ہزار سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ 4 ہزار سے زیادہ لوگ کیمپوں میں موجود ہیں، مجموعی طور پر اب تک 4 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک 20 اموات ہوچکی ہیں اور خدشہ ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا، جب تک یہ پانی سندھ میں داخل نہیں ہوتا پنجاب ہائی الرٹ پر ہے اور سندھ حکومت کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ کوہ سلیمان پر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جس سے رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ بڑھے گا، بھارت نے پانی کے اخراج کے بارے میں بروقت معلومات فراہم نہیں کیں جس سے نقصان میں اضافہ ہوا، اور اسی تاخیر پر بین الاقوامی میڈیا نے بھی بھارت پر تنقید کی ہے۔

انہوں شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر دریا کے راستوں کو خالی کر دیں تاکہ ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات موثر انداز میں جاری رکھے جا سکیں۔