لاہور: (خصوصی رپورٹ) کینیڈا کی الگوما یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انسانی جینیاتی کوڈ کے بارے میں ایک نئی تحقیق میں اہم انکشافات کیے ہیں، جس سے واضح ہوا ہے کہ جسم پروٹین کس طرح تیار کرتا ہے اور جینیاتی "ہدایات" لکھنے کے انداز کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ارشد رفیق اور ان کی ٹیم کی یہ تحقیق بایو آرکائیو میں شائع ہوئی ہے، اس تحقیق کا عنوان "ہومو سیپیئنز میں انٹر اینڈ انٹرا جینک کودون یوزج لینڈ اسکیپ کی میپنگ" ہے، اس ٹیم میں یونیورسٹی کے طلبہ معاہل ارشد، میتھیو اوچمانووچ اور ونشیکا رانا بھی شامل تھے۔
ڈاکٹر رفیق کے مطابق "کودون یوزج بایس" یعنی جینیاتی ہدایات میں کچھ مخصوص پیٹرن، جو اس سے قبل زیادہ تر بیکٹیریا اور وائرس میں زیرِ مطالعہ رہا، انسانوں میں بھی ایک اہم ضابطہ جاتی کردار ادا کرتا ہے، یہ پیٹرن اس بات کو متاثر کرتا ہے کہ پروٹین کتنی تیزی اور درستگی سے تیار ہوتے ہیں، کس طرح فولڈ ہوکر اپنی ساخت برقرار رکھتے ہیں اور ان کی بقا کتنی مستحکم رہتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پروٹین کے مضبوط اور منظم حصوں میں کودون بایس زیادہ نمایاں ہے، جبکہ لچکدار حصوں میں یہ نسبتاً کمزور ہے، زیادہ استعمال ہونے والے کودون ایسے ٹی آر این اے جینز سے جڑے ہیں جو بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس وجہ سے پروٹین کی تیاری زیادہ مؤثر ہوتی ہے، حیران کن طور پر وہ جینز جن میں کودون بایس بہت زیادہ ہے "خاموش تغیرات" کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارتقائی دباؤ ان پر زیادہ مضبوطی سے کام کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جینیاتی کودون بایس محض اتفاقی نہیں بلکہ انسانی صحت، بیماریوں کے خطرات اور مستقبل میں دوا سازی کے شعبے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا ہے، اس تحقیق کو الگوما یونیورسٹی نے فنڈ کیا ہے اور یہ آئندہ فنکشنل جینومکس اور بیماریوں سے جڑے خاموش جینیاتی تغیرات کو سمجھنے میں بنیاد فراہم کرے گی۔