تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام
  • بریکنگ :- چاہتاہوں 25 مئی کو پوری قوم نکلے ،چیئرمین تحریک انصاف
  • بریکنگ :- حقیقی آزادی مارچ کیلئے اسلام آباد سری نگر ہائی وے پر جمع ہوں،عمران خان
  • بریکنگ :- سری نگر ہائی وے پر آپ سےسہ پہر 3 بجے ملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- انشااللہ خیبرپختونخواسے مارچ کی قیادت کروں گا،عمران خان

’بھارت نے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنی قبر خود کھودی ہے‘

Published On 26 August,2020 09:47 pm

سرینگر: (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اپنی قبر خود کھودی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو کشمیر کو بین الاقومی مسئلہ بنادیا اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی کھودی جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ایک شان دار چیز ہوئی کہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ بن گیا ہے، بھارتی حکومت اس مسئلے کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہے۔

مقبوضہ خطے کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کے بعد تین مرتبہ بحث ہوئی اور یہ مذاکرہ جاری رہے گا ۔

انہوں نے امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

فاروق عبداللہ کاجوبائیڈن سے متعلق کہنا تھا کہ وہ امریکا کا صدر بننے کے لیے مقابلہ کررہا ہے اور ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کےعوام کی حیثیت بحال کی جائے اور ان پر مسلط وحشیانہ حملے بند کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو دوسری کی طرح آزادی بھی دی جائے اور اب اسی طرح کی آوازیں چین سے بھی آرہی ہیں اور انہوں نے کھلے عام کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کو بحال کیا جائے۔

نیشنل کانفرنس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ وہی چین ہے جس کے وزیراعظم بھارت کے دورے پروارے نیارے جارہے تھے لیکن اب کھلے عام ہمارے لیے بات کررہے ہیں۔

فاروق عبداللہ نے رواں برس مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے والے غیرملکی نمائندوں کو کٹھ پتلی قرار دیا۔

ان کا کہناتھا کہ یہ لوگ کشمیری پکوان کا ذائقہ چکھتے ہیں اور دل جھیل کے گرد گھوم کرخوش ہوجاتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ پوری وادی کے حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو نہ صرف ریاست کے بجائے 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا تھا بلکہ وادی کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے وہاں غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت بھی دی تھی۔

بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا تھا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی تھی۔

بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تھے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کردیا گیا تھا جس کے بعد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

30 اکتوبر کی رات 12 بجے سے بھارتی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا تھا جس کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہوگیا جس میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا بدھ مت اکثریتی لداخ کا علاقہ شامل ہے۔

دونوں علاقوں پر حکمرانی نئی دہلی کی ہوگی اور نئے لیفٹننٹ گورنر کا تعیناتی مرکزی حکومت کرے گی۔

بھارتی حکومت نے ان اقدامات کے خلاف احتجاج کے پیش نظر مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی اور پیراملیٹری فورسز تعینات کردیے تھے اور گزشتہ ایک برس کے دوران سیکڑوں کشمیریوں کو قتل کیا گیا۔