بوداپست : (ویب ڈیسک) ہنگری نے اپنے دوست ملک اسرائیل سے یاری نبھانے کے لیے عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹِ گرفتاری ہونے کے باوجود نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کا پُرتپاک استقبال کیا۔
ہنگری کے وزیراعظم نے نیتن یاہو کو خوش آمدید کہا اور پُرتکلف کھانوں سے تواضع بھی کی حالانکہ عالمی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت کا رکن ہونے کی حیثیت سے ہنگری کی یہ اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وارنٹ گرفتاری کے فیصلے پر عمل درآمد کرے۔
تاہم ہنگری کے وزیراعظم نے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہ صرف فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا بلکہ عالمی فوجداری عدالت سے علیحدہ ہونے کا اعلان بھی کردیا۔
جس پر آئی سی سی کے ترجمان فادی عبداللہ نے ہنگری کو یاد کرایا کہ وہ باضابطہ علیحدگی ہونے تک رکن ہے اور اُس وقت تک عدالت کے ساتھ تعاون کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔