تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی تقریرکابیشترحصہ مسئلہ کشمیرپرتھا،بیرسٹرسلطان
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےواضح کہاوقت آگیاہےکشمیریوں کوان کاحق خودارادیت ملے،بیرسٹرسلطان
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم اوربربریت جاری ہے،بیرسٹرسلطان
  • بریکنگ :- سیدعلی گیلانی کی وفات کےبعدبھارت کارویہ غیرانسانی تھا،بیرسٹرسلطان
  • بریکنگ :- سیدعلی گیلانی کی خواہش تھی ان کی تدفین شہداقبرستان میں کی جائے،بیرسٹرسلطان

آئندہ دس برس میں 47 لاکھ لڑکیاں کم پیدا ہوں گی، تحقیقاتی مطالعے کی رپورٹ

Published On 04 August,2021 06:06 pm

سویڈن: (روزنامہ دنیا) آئندہ دس برسوں کے دوران لڑکیاں توقع سے 47لاکھ کم پیدا ہونگی۔ اس بات کا انکشاف ایک تحقیقاتی مطالعے میں کیا گیا ہے، اس تحقیقاتی مطالعے میں دو فرضی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے ان بارہ ملکوں پر توجہ مرکوز رکھی جہاں آبادی میں 1970ء سے لے کر اب تک مردوں کا عورتوں کے مقابلے میں تناسب بڑھا ہے۔

ان سترہ ملکوں پر بھی توجہ دی گئی جہاں سماجی رویوں اور متنازعہ عوامل کی وجہ سے ایسی صورتحال کا خطرہ موجود ہے۔ پھر تحقیق کے مقصد سے دو مختلف صورتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پہلی صورت میں دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر اور رجحان دیکھا گیا اور اس کی بنیاد پر پیش گوئی کی گئی جس کے تحت اگلے دس برسوں میں توقع سے 4.7 ملین کم لڑکیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

دوسری صورت میں ایسے ممالک کو مثال بنایا گیا جہاں سے مصدقہ ڈیٹا نہیں مل سکا۔ ان ملکوں میں مبصرین کی رائے کی بنیاد پر پیش گوئی مرتب کی گئی جس کے تحت اس صدی کے اختتام تک توقع سے 2 کروڑ 2 لاکھ لڑکیاں کم پیدا ہو سکتی ہیں۔

اس مطالعے کے نتائج بی ایم جے میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔ بچوں کی پیدائش کے معاملے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینے اور اس سے منسلک اقدامات کی وجہ سے لڑکیوں کی پیدائش کی شرح کم ہونے کا امکان ہے۔ اس کے آبادی، معاشرے اور اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ صورتحال کا ایک نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ متاثرہ ممالک میں شادی بیاہ میں مسائل درپیش آئیں گے۔ توقع سے کم لڑکیوں کی پیدائش سے سماجی سطح پر رویوں میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے اور تشدد کا عنصر بھی ابھر سکتا ہے۔

کئی معاشروں میں لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بالخصوص جنوب مشرقی یورپ کے علاوہ جنوبی اور مشرقی ایشیا میں صنف کی بنیاد پر اسقاط حمل جاری ہے اور یہی حقیقت لڑکیوں کی پیدائش کی شرح میں کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس سے طویل المدتی بنیادوں پر معاشرے میں عورتوں اور مردوں کا توازن خراب ہوگا۔