تازہ ترین
  • بریکنگ :- پشاور:ضلعی انتظامیہ کارات گئےگلبہارمیں گودام پرچھاپہ،ڈی سی
  • بریکنگ :- پشاور:50 لاکھ سےزائدمالیت کی سرکاری ادویات برآمد،ڈی سی
  • بریکنگ :- ادویات پرخیبرپختونخوا،سندھ گورنمنٹ اوردیگرسرکاری اسپتالوں کی مہریں

ملک بھر میں بڑے مالز اور فلائٹس کھولنے پر بات چیت ہو رہی ہے: اسد عمر

Last Updated On 13 May,2020 11:15 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں فیصلے اتفاق رائے سے ہو رہے ہیں، بڑی مارکیٹیں کھولنے کا فیصلہ بالکل آخر میں کیا گیا تھا اور مالز اور فلائٹس کھولنے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے، ایک دو روز میں فیصلہ ہو جائے گا۔ اگر کیسز تیزی سے بڑھنے شروع ہوگئے تو مجبوری میں ہم فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا کامران خان کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مئی کے مہینے میں کورونا کیسز بڑھتے نظر آئیں گے کیسز میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے لیکن اتنا نہیں کہ ہمارے ہسپتال کے نظام مفلوج ہو جائیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہر دس روز بعد کورونا سے ممکنہ صورت حال کا جائزہ لیا جا تا ہے، مئی کی صورت حال کا جو پچھلے مہینے اندازے لگائے گئے اس کے حساب سے حالات توقع کے مطابق ہیں، لوگوں کو روزگار اور کاروبار میں آسانیاں دی گئیں، پچھلے دو روز میں جس طرح عوام گھروں سے باہر نکلے ہیں ایسا ہی معاملہ رہا تو حالات خراب بھی ہوسکتے ہیں، اگر حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں گی تو حالات قابو سے باہر نہیں ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رمضان کے آغاز میں تراویح کے معاملے پر بھی شروع میں مشکلات آئی تھیں مگر بعد میں 70 فیصد عمل دیکھنے میں آیا ہم عوام کے اوپر لاٹھی نہیں برسا سکتے ایس او پیز پر عمل درآمد کی زیادہ زمہ داری کاروبار چلانے والوں پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا پھیلاؤ روکنے کیلئے صوبے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا مزید کہنا تھا کہ اندازے ہیں کہ کورونا کی ویکسین سامنے آنے میں 12 سے 18 مہینے لگیں گے، دنیا میں کوئی بھی ملک کوشش نہیں کر رہا کہ وہ اپنے ملک کو مکمل طور پر بند کر دے، ہمیں وباء کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنا ہے، اس بات پر نطر رکھنی ہے کہ ہمارے صحت کے نظام پر ناقابل برداشت بوجھ نہ پڑے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے فیصلے جن کا پورے ملک پر اطلاق ہو رہا ہے وہ ہر دو دن کے بعد تبدیل نہیں کیے جاسکتے، اگر کیسز تیزی سے بڑھنے شروع ہوگئے تو مجبوری میں ہم فیصلے پر نظر ثانی کریں گے، کروڑوں لوگوں کی معاشی مشکلات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ بڑی مارکیٹس کھولنے کا فیصلہ بالکل آخر میں کیا گیا تھا اور اب مالز کھولنے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے لوگوں کی آمدورفت کے ذرائع کو بند رکھنا ناقابل فہم ہے ، ایک دو روز میں اس پر فیصلہ کر لیا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مشکل فیصلے قوم کی خواہش کے مطابق مشاورت اور یکسوئی سے کر رہے ہیں۔ ہر فیصلہ ناپ تول کے پہلی ہی دفعہ میں سہی ہو جائے گا یہ توقع ناجائز ہے۔

اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ سازی میں مجموعی طور پر صوبوں نے بہت تعاون کیا ہے۔ ہر چیز اگر میری منطق پر چلے گی تو پھر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پائے گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ہمارے اندازے کے مطابق 60 فیصد انڈسٹریز کام کر رہی ہیں ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو کاروبار کی آزادی ملے اور وبا بھی قابو سے باہر نہ ہو، حل یہ ہے کہ فیصلے کے بعد دو چار ہفتے اسکے اثرات دیکھے جائیں، ہسپتال اور وباء کی صورت حال دیکھ کر اگلے فیصلے کیے جائیں گے۔ ٹریکنگ ، ٹیسٹنگ اور کوارنٹین کے مطابق 500 سے زائد لوکل ٹارگٹڈ ایکشن لیے گئے ہیں، اندازہ یہ ہے کہ پاکستان میں پھیلاؤ کم ہے اس لیے پیک کا مرحلہ شاید لمبے عرصے چلے۔

پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت فیج کوآرڈینیشن کا بہترین کام سر انجام دے رہی ہے، کورونا سے نمٹنے کے معاملے میں چین رول مڈل ہے، ہمیں اپنے ملک کے نظام کو دیکھتے ہوئے آگے چلنا ہے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے وفاق اور صوبے ساتھ مل کر نہ چلیں تو کام نہیں بن سکتا۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے پر پاکستان میں وفاق، صوبے اور فوج ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی رائے بہت اہم ہے مگر فیصلے صرف اس بنیاد پر کرنا غلط ہو گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی کی وباء کچھ عرصے ہمارے ساتھ چلے گی وہ ملک کامیاب ہو جائیں گے جہاں کی عوام سمجھ جائے کہ اب پہلے کی طرح زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ آج بھی ہم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بھارت سے زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں، اپنی ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔