تازہ ترین
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی نےنیب قوانین میں ترمیم کوچیلنج کرنےکافیصلہ کیاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی چاہتی ہےسپریم کورٹ معاملےپرسوموٹونوٹس لے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- الیکشن میں من پسندنتائج ہمارے ملک میں رواج ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- آراوالیکشن آصف علی زرداری نےکہاتھا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- لانگ مارچ کےدوران کارکنوں پر شیلنگ سب نےدیکھی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- لانگ مارچ کےدوران وکلاپرجوتشددہوااس کی مثال نہیں ملتی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- لانگ مارچ کےدوران وکلاپرتشددکی پرزورمذمت کرتےہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- لیک آڈیوبےبنیاداورایڈیٹ کی گئی ہے،اسےمستردکرتےہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سوال ہی پیدانہیں ہوتاعمران خان کسی ٹائیکون سےپیچ اپ کاکہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- قانون سازی کرنااسمبلی کااختیارہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- ہم قانون سازی کےاختیارکوچیلنج نہیں کررہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- ہمارےاستعفےجاچکےہیں،رہنما پی ٹی آئی شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- انتخابات جیتیں گےمگرکرپٹ نظام کوبےنقاب کرناہمارامقصدہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- راناثنااللہ کی کتاب میں خیبرپختونخوا پاکستان کاحصہ ہےیانہیں؟ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- خود لندن جاکربیٹھ جاتےہیں ،اس پراعتراض نہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- عمران خان خیبرپختونخوابیٹھےہیں ،اس پراعتراض ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- آپ بیان حلفی دےکرمکرجاتےہیں ،اس پراعتراض نہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- میرےخلاف مقدمہ درج ہے،گرفتارکرناچاہتےہیں توبیٹھاہوں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- حکومت میں شامل لوگوں کی منزل ایک نہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- غیرفطری قسم کانظام ہے،زیادہ دیرنہیں چل سکےگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- یہ لوگ عمران خان کونیچادکھانےکیلئےاکٹھےہوجاتےہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- قوم کی خواہش ہےکہ کرپشن سےجان چھڑائی جائے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- انہوں نےنیب قانون میں ترمیم سےخودکواین آراوٹودیاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیب قوانین میں ترمیم کافائدہ کچھ سیاسی شخصیات کوہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- فیٹف قانون سازی کےدوران انہوں نےنیب ترامیم سےمشروط حمایت کاکہا،شاہ محمود
  • بریکنگ :- ن لیگ اورپیپلزپارٹی نیب قوانین میں من پسندترامیم چاہتی تھیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- قوانین میں ترمیم سےنیب کاادارہ بےمعنی ہوگیا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اب نیب وفاقی حکومت کےتابع ہوگیاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- انہوں نےنیب کواینٹی کرپشن پنجاب یاایف آئی اےبنانےکی کوشش کی،شاہ محمود
  • بریکنگ :- 80فیصدکیسزنیب سےدیگرعدالتوں میں منتقل ہوجائیں گےجوان کامقصدتھا،شاہ محمود
  • بریکنگ :- وزیراعظم شہبازشریف نیب ترامیم کےڈائریکٹ بینیفشری ہوں گے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نوازشریف بھی نیب ترامیم کےبینیفشری ہوں گے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- منی لانڈرنگ،بیرون ملک اثاثےرکھنےوالوں کوفائدہ پہنچایاگیا،شاہ محمود
  • بریکنگ :- چیئرمین نیب عملی طورپرکسی کوگرفتارکرنےمیں بےاختیارہوگئے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ نیب قوانین میں ترمیم پرنوٹس لے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کشمیرہاؤس اسلام آباد بیٹھاہوں ،پشاورنہیں ،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- سندھ ہاؤس میں کس قانون کےتحت بولی لگ رہی تھی؟ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کس شق کےتحت منحرف اراکین سےرابطےکیےجارہےتھے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- کس شق کےتحت غیرملکی سفیرنےہمارے سفیرکودھمکی دے،شاہ محمودقریشی

'پنڈورا پیپرز' :700 پاکستانی بے نقاب، شوکت ترین، فیصل واوڈا اور مونس الہٰی شامل

Published On 03 October,2021 09:17 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز)پانامہ پیپرز کے بعد نئے مالیاتی سکینڈل 'پنڈورا پیپرز' کی ہوشربا تفصیلات جاری کردی گئی ہیں جس کے مطابق700سے زائد پاکستانی بے نقاب ہوگئے ،جن میں پاکستان سے شوکت ترین،مونس الہیٰ،شرجیل میمن،عبدالعلیم خان،فیصل واوڈا،اسحاق ڈارکے بیٹے علی ڈار،شعیب شیخ،سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے بیٹے کا نام شامل ہے جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ بھی آف شور کمپنی کے مالک نکلے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی دنیا میں ہلچل مچانے والے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل  پنڈورا پیپرز کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں،ان تفصیلات کےمطابق 700سے زائد پاکستانی بے نقاب ہوگئے ہیں جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین ،مونس الہیٰ ،علیم خان اور فیصل واوڈا قابل ذکر ہیں جبکہ دیگر میں خسرو بختیارکے بھائی عمر بختیارعارف نقوی،راجہ نادر پرویز،محمد علی ٹبہ،میر خالد آدم، کچھ کاروباری اور بینکاری شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔ 

 پاک فضائیہ کےسابق سربراہ عباس خٹک کے2 بیٹوں کےنام آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ جنرل(ر)خالد مقبول کے داماداحسن لطیف،کاروباری شخصیت طارق سعیدسہگل،جنرل (ر)شفاعت اللہ کی اہلیہ کے نام شامل ہیں۔

عمر بختیار نے آف شور کمپنی کے ذریعہ ایک ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ اپنی والدہ کے نام پر منتقل کیا،عمر بختیار نے 2018 میں لندن کے علاقے چیلسی میں اپارٹمنٹ والدہ کے نام پر منتقل کیا۔ پاکستانی شخصیات میں شوکت ترین اور ان کے خاندان کے نام 4آف شور کمپنیاں نکلی ہیں ۔ 

علیم خان کی 1،شرجیل میمن کی 3،علی ڈار کی 2،مونس الٰہی کی2،فیصل واوڈا کی ایک آف شور کمپنی نکلی ہے۔

غیر ملکی شخصیات

یوکرین ،کینیا، اور ایکواڈور کے حکمرانوں ،اردن کےبادشاہ عبداللہ اورقطر کےحکمرانوں کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ چیک ری پبلک اورلبنان کےوزرائےاعظم آف شورکمپنیوں کےمالک ،سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کےنام بھی آف شورکمپنی ،کچھ کاروباری شخصیات اور بینکاروں کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ گلوکارہ شکیرا، سابق بھارتی کرکٹرسچن ٹنڈولکر کےنام بھی آف شورکمپنی رجسٹرڈ ہے ، روس اور آذربائیجان کےصدور، برطانوی ہاؤس آف کامن کے لیڈر جیکب ریز موگ کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم ، آذربائیجانی صدر کے بچے، سابق بحرینی وزیر اعظم شیخ خلیفہ بن سلمان کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکلیں جکبہ پانامہ کے تین سابق صدور کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آگئے ہیں۔

یہ تفصیلات آئی سی آئی جے نے گیارہ اعشاریہ 9ملین دستاویزات شائع کرکے جاری کی ہیں۔ اس عالمی تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں، 150میڈیا تنظیمیوں نے حصہ لیا۔

آئی سی آئی جے کے مطابق  پنڈورا پیپرز  کے نام سے پروجیکٹ میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پاکستان کے بھی دو صحافی شامل ہیں، پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔

پانامہ پیپرز کیا ہیں؟

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔

ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔

یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔

بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔