لاہور کی کئی بستیاں زیر آب، جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کیلئے ریلوے لائن بند میں شگاف

Published On 29 August,2025 09:34 am

لاہور: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی آبادیاں بھی سیلاب کی زد میں آ گئیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، بھارت سے آج شام ایک اور سیلابی ریلا چناب میں آئے گا جبکہ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے سیلابی صورتحال بدتر ہو سکتی ہے۔

راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی نے لاہور، قصور، جھنگ، حافظ آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، وزیر آباد، سرگودھا، نارووال، بہاولنگر اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے۔

1692دیہات زیر آب، 14 لاکھ 60 ہزار افراد متاثر

صوبہ پنجاب میں چار دہائیوں میں آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 14 لاکھ 60 سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، پنجاب میں حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کی وجہ سے اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔

پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریاؤں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوا، بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا، جس کی وجہ سے 1692 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔

لاہور

لاہور کا مضافاتی علاقہ موہلنوال بھی زیر آب آ گیا، کئی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں داخل ہو چکا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور موسی رضا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں اس وقت دو لاکھ 11 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 10 گھنٹوں میں پانی کے بہاو میں مزید کمی آئے گی۔

لاہور میں ابھی تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، دو ہزار کے قریب شہریوں کو پہلے نکالا گیا تھا، جو لوگ نہیں جاسکے ان کو18ریلیف کیمپس میں ٹھہرایا ہوا ہے، پانچ کیمپس میں ابھی لوگ ہیں انہیں ناشتہ اورکھانا فراہم کیا جارہا ہے۔

نارووال میں بھی پانی کم ہو رہا ہے، ہمارا فوکس اس وقت ریسکیو آپریشن پر ہے، ہماری مختلف اضلاع سےآنیوالی سبزیوں کی سپلائی لائنز تھوڑی متاثر ہوئی ہیں۔

راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے لاہور کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: راوی میں اونچےدرجے کا سیلاب، چوہنگ کے قریب نجی ہاؤسنگ سوسائٹی زیر آب

رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ کے علاقے میں بھی دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا، چوہنگ کے مختلف علاقے بھی زیر آب آ گئے ہیں، چوہنگ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے کے بعد مکینوں نے رات گئے نقل مکانی کر لی۔

منظور گارڈن، برکت کالونی اور مانوال سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آیا، فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد بھی زیر آب گئے، شہری انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کی نقل مکانی یقینی بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

شرقپور شریف کے کئی دیہات زیر آب آ چکے ہیں، شکر گڑھ کے کئی علاقوں میں بھی ہر طرف پانی ہی پانی ہے، کروڑوں روپے مالیت کے مویشی لاپتہ ہو گئے ہیں۔

راوی کے ہائی رسک علاقے

ہائی رسک علاقوں میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔

ضلع شیخوپورہ میں فیض پور، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔

ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالہ میں سیلاب متوقع ہے۔

بھارت سے چناب میں نیا ریلا

فلڈ فورکاسٹنگ پنجاب نے بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا نیا مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سے سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب ہیڈ تریموں بیراج پہنچے گا۔

ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا ہوگا، 2 ستمبر کو ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچے گا۔

سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے مالی امداد

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے۔

فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، سیلاب کےپیش نظرضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔

دریائے راوی نے نارنگ منڈی میں بھی تباہی مچا دی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث کئی دیہات اور ڈیرہ جات کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے تباہی، کئی بند ٹوٹنے سے بستیاں ڈوب گئیں، ہزاروں افراد ریسکیو

اس کے علاوہ نارووال کے کئی دیہات زیر آب آ گئے، ہزاروں ایکڑپر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، شکر گڑھ نارووال روڈ بھی ڈوب گیا جبکہ قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک سیلاب کی زد میں آگیا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔

ملتان کے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ

دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمالیہ میں دریائے راوی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے، سیلابی پانی نے قریبی رہائشی آبادیوں میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے، 26 دیہات میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے انخلاء کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

چنیوٹ کی تحصیل لالیاں میں موضع کلری کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آنے کے بعد ہزاروں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ، چنیوٹ میں 8 لاکھ 5300 کیوسک سے زائد پانی کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔

ساہیوال میں اورنگ آباد کے بند میں شگاف پڑنا شروع ہو گیا ہے ، بند سے ملحقہ آبادیاں پانی کی لپیٹ میں آ گئی ہیں ،انتظامیہ نے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔

راول ڈیم کے سپل وے کھول دیے گئے

این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچنے پر صبح 6 بجے راول ڈیم کے سپل وے گیٹ کھول دیے گئے۔

کورنگ نالہ میں پانی کے بہاؤ کو قابو کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

فلڈ وارننگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب کا بہاؤ کوٹ مومن پر 10 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے، مڈھ رانجھا سمیت 50 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

گنڈا سنگھ والا پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور انتظامیہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکال رہی ہے۔

جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کیلئے ریلوے بند توڑ دیا گیا

دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلا جھنگ داخل ہو گیا، جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے ریواز پل کو بریچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا  تاہم موضع ننکانہ ریلوے لائن تحصیل جھنگ سے شگاف ڈالا گیا ہے جو ریواز پل سے تین کلو میٹر دور ہے۔

دریائے چناب میں اس وقت بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ میں موجود ہے اور کچھ دیر قبل وہاں سے آٹھ لاکھ 55 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا۔

ڈپٹی کمشنرجھنگ کا کہنا ہےکہ 140دیہات سے 1لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا، ساٹھ ہزار سے زائد جانوروں کو نشیبی علاقوں سے باہر منتقل کیاگیا، تحصیل اٹھارہ ہزاری سےملحقہ 30 سے زائد موضع جات خالی کروالیے گئے۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنا لیا گیا ہے، فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔

ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ بڑھنے سے حافظ آباد کی 75 بستیاں ڈوب گئیں۔

 جھنگ کے ٹریموں ہیڈورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور چارے کی فراہمی جاری ہے۔

پاکپتن میں بے گھر افراد دریا کے پشتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، متاثرین کے مطابق انہیں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔

بہاولپور میں شگاف، دیہات زیرِ آب

بہاولپور میں دریائے ستلج کے زمندارہ بند میں شگاف پڑنے سے دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی ڈوب گئی ہے، ریسکیو حکام نے یوسف والا اور احمد والا بند کو شدید متاثرہ قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے ڈرونز کے ذریعے متاثرین اور مویشیوں کا سراغ لگانے کے اقدامات کو کامیاب حکمتِ عملی قرار دیا۔

متاثرہ اضلاع و موضع جات

 اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 355 ریلیف کیمپوں میں 1372 متاثرہ افراد مقیم ہیں اور 6 ہزار 656 کو طبی امداد فراہم کی گئی، مجموعی طور پر 90 ہزار 348 افراد اور ایک لاکھ 54 ہزار980 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

چناب میں 991 دیہات ڈوب گئے جبکہ سیالکوٹ میں 395، جھنگ میں 127، ملتان میں 124، چنیوٹ میں 48، گجرات میں 66، خانیوال میں 51، حافظ آباد میں 45، سرگودھا میں 41، منڈی بہاالدین میں 35 اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے۔

راوی میں نارووال کے 75، شیخوپورہ کے 4 اور ننکانہ صاحب کا ایک گاؤں زیرِ آب آیا ہے، جہاں سے 11 ہزار افراد اور 4500 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔

ستلج میں 361 دیہات متاثر ہوئے جن میں قصور کے 72، اوکاڑہ کے 86، پاکپتن کے 24، ملتان کے 27، وہاڑی کے 23، بہاولنگر کے 104 اور بہاولپور کے 25 دیہات شامل ہیں، یہاں سے ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد اور 70 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔