پیوٹن، شہباز ملاقات اور پاکستان کے مفادات

Published On 29 August,2025 06:39 pm

ماسکو: (شاہد گھمن) پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ نئی جہتیں اختیار کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب دنیا شدید معاشی اور جغرافیائی کشمکش کا شکار ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر پیوٹن کی متوقع ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، اس ملاقات سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مشترکہ مسائل پر کھل کر گفتگو کرنے کا موقع ملے گا۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات سفارتی چینلز کے ذریعے طے پا گئی ہے، ذرائع کے مطابق یہ ملاقات چین میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمٹ کی سائیڈ لائن پر ہوگی، یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کو خطے کے اہم سیاسی اور اقتصادی امور پر براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرے گی اور پاکستان-روس تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں عالمی طاقتوں کی صف بندی بدلتی جا رہی ہے، روس مغرب کے ساتھ تنازعات میں الجھا ہوا ہے جبکہ پاکستان بھی اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے میں ماسکو اور اسلام آباد کا قریب آنا نہ صرف دونوں ممالک کے لیے مفید ہو سکتا ہے بلکہ خطے کے امن اور اقتصادی استحکام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کو روس سے توانائی کے شعبے میں تعاون کی فوری ضرورت ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ صدر پیوٹن کے سامنے سستے تیل اور گیس کی فراہمی کے معاملات کو عملی شکل دینے کے لیے بات کریں، اگر روس پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر توانائی فراہم کرنے پر آمادہ ہو جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے ریلیف ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر کے درمیان ملاقات طے

اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم آج بھی محدود ہے۔ زراعت، ٹرانسپورٹ اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں نئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف کو صدر پوتن سے یہ سوال رکھنا چاہیے کہ کیا روس پاکستان کی ٹیکسٹائل، زرعی اجناس اور دیگر مصنوعات کو اپنی منڈی تک رسائی دینے پر آمادہ ہے؟ اور کیا روسی سرمایہ کار پاکستان کے انفراسٹرکچر اور زرعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے بحران سے نکلنے کا ایک راستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم کو تعلیم اور نوجوانوں کے مواقع پر بھی زور دینا چاہیے، ہزاروں پاکستانی طلبہ روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ویزہ مسائل اور اسکالرشپ کی کمی ان کے خوابوں میں رکاوٹ ہے، اس ملاقات میں یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ روس پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس بڑھائے اور ویزہ پراسیسنگ آسان بنائے، مزید برآں، پاکستانی ورک ویزہ کے لیے مخصوص کوٹہ بھی منظور کروانا چاہیے تاکہ مزدور، پیشہ ور اور ٹیکنیکل شعبوں کے افراد روس میں قانونی طور پر کام کر سکیں اور دونوں ممالک کے درمیان انسانی وسائل کا تبادلہ بھی بڑھے۔

علاقائی سیاست میں روس کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں، افغانستان کے استحکام اور وسطی ایشیائی خطے میں امن کے لیے پاکستان اور روس کی مشترکہ حکمت عملی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، تاہم مسلم امہ کے دیرینہ مسائل ، فلسطین اور کشمیر، بھی اسی قدر اہم ہیں، روس کا فلسطین کے مسئلے پر موقف ہمیشہ اصولی اور فلسطینی عوام کے قریب رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان یہ توقع رکھتا ہے کہ ماسکو نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی آواز مزید بلند کرے گا، اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے بھی روس سے ایک واضح اور عملی مؤقف کی امید کی جا رہی ہے۔

یہ ملاقات پاکستان کے لیے محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے، اگر وزیراعظم شہباز شریف اس گفتگو کو محض رسمی جملوں تک محدود رکھتے ہیں تو یہ تاریخ کی ایک اور تصویر اور چند بیانوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گی، لیکن اگر وہ جرات اور بصیرت کے ساتھ ان بڑے سوالات کو صدر پیوٹن کے سامنے رکھیں اور ان کے جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہوں تو یہ ملاقات پاکستان اور روس دونوں کے لیے نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو کاغذی نہیں بلکہ عملی ہو، جو محض بیانات پر نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے والے فیصلوں پر استوار ہو، یہی وہ امتحان ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کو کامیاب ہونا ہوگا۔