تازہ ترین
  • بریکنگ :- رول آف لا کا بنیادی مقصد انصاف سب کے لیے برابرہے،فروغ نسیم
  • بریکنگ :- ہمیں بطورقوم اپنا احتساب کرنا ہوگا،وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم
  • بریکنگ :- لاریفارمزپرسب سےزیادہ مزاحمت وکلاکرتے ہیں،فروغ نسیم
  • بریکنگ :- قانون کی حکمرانی میں مصلحت کا شکارنہیں ہونا چاہیے،فروغ نسیم
  • بریکنگ :- اداروں کا احترام پرسب پرلازم ہے،وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم
  • بریکنگ :- کراچی: فیصلے کرنا حکومت کا نہیں عدالتوں کا کام ہے،فروغ نسیم

جدید جیومیٹری کے موجد قدیم عراقی، ایک بار پھر ثابت

Published On 07 August,2021 12:49 pm

نیو ساؤتھ ویلز: (روزنامہ دنیا) چکنی مٹی سے بنی قدیم تختی سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ جیومیٹری آج سے 3700 سال پہلے ‘‘بابل’’ کے رہنے والوں نے ایجاد کی تھی بلکہ وہ اسے روزمرہ زندگی میں استعمال بھی کر رہے تھے۔

چکنی مٹی کی یہ تختیاں، جن پر نقش کی ہوئی علامات سے جیومیٹری کے میدان میں اہلِ بابل کی تاریخی سبقت ثابت ہوتی ہے، لگ بھگ اسی زمانے سے تعلق رکھتی ہیں جب حمورابی وہاں کا حکمران تھا۔

ڈاکٹر ڈینیئل نے اسی زمانے کی ایک اور لوح Si.427 کا جائزہ لیا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ لوح ‘‘لینڈ سروے’’ سے متعلق کوئی دستاویز تھی سرویئر نے لوح پر بالکل ٹھیک مستطیل اور قائمۃ الزاویہ مثلث بنا کر زمینی رقبے کو ظاہر کیا ہے۔

مینسفیلڈ کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ خیال مزید پختہ ہو گیا ہے کہ جدید جیومیٹری کی ابتداء قدیم یونان سے ایک ہزار سال قبل ‘‘بابل’’ کی تہذیب میں ہوچکی تھی۔