تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی نظام کی تجاویززیرگردش ہیں،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- آئینی ڈھانچےکےخلاف سازش ہورہی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک میں کھاد کابحران ہے،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ملک میں پہلی بارکھادکابحران پیداہوا،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- کسانوں کےمسائل کوہرفورم پراٹھائیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- لانگ مارچ میں کسان شرکت کریں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- بلوچستان کےمعدنی ذخائرپرمقامی لوگوں کاحق ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- ریکوڈک معاہدہ عوام کےسامنےلایاجائے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- فاٹاکےانضمام کو 4سال ہوگئے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- سابق فاٹا کےعوام کوکوئی نظام نہیں دیا گیا،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- سابق فاٹاکےعوام پرناکام نظام مسلط کیاجارہاہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- سانحہ مری، چھوٹےسرکاری ملازمین کونکالنا ناکافی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- وزیراعظم اورعثمان بزدارکومستعفی ہوناچاہیے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- 23مارچ کوہم اسلام آباد میں داخل ہوں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پریڈصبح ہوتی ہےہم ظہرکے بعد آئیں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- عدم اعتمادپرتمام جماعتیں متفق ہوں گی توفیصلہ کریں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- دھاندلی سےآنےوالی حکومت کوہٹاناآئینی فریضہ ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- خواہش ہےمہنگائی مارچ میں تمام جماعتیں شریک ہوں،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پارلیمانی نظام کاخاتمہ آئین کیخلاف سازش لگتی ہے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پارلیمانی نظام کوختم نہیں ہونےدیں گے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- صدارتی طرزحکومت ایک سیاہ تاریخ رکھتاہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- پاکستان میں صدارتی طرزحکومت کسی صورت قبول نہیں،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- صدارتی نظام آمریت کا دوسرا نام ہے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس ناپاک سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے،فضل الرحمان

پرتگال: دفتری اوقات کے بعد ملازمین سے رابطہ کرنے پر کمپنیوں کو جرمانہ، قانون منظور

Published On 20 November,2021 05:21 pm

لزبن: (ویب ڈیسک) یورپی ملک پرتگال سے ایک حیران کن خبر نے سب کو ششدر کر دیا ہے جہاں پر گزشتہ روز ایک ایسے قانون کو منظور کیا گیا ہے جس کے تحت ان کمپنیوں پر جرمانے ہوں گے جو اپنے ملازمین سے دفتری اوقات کے بعد کام کے لیے رابطہ کریں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پرتگال کے پارلیمان سےمنظور ہونے والے قانون میں کمپنیاں ورکرز کو ریموٹ ورکنگ یعنی گھر سے کام کرنے کے دوران بجلی اور انٹرنیٹ کے اضافی بل دینے کی بھی پابند ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق اس قانون سازی سے پرتگال میں ورکرز اپنے دفتری امور اور گھریلو معاملات کو متوازن کر سکیں گے۔ برسرِ اقتدار سوشلسٹ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سازی کورونا کے سبب گھروں سے کام کرنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ پرتگال کے لیبر قوانین میں ان ترامیم کا اطلاق ان کمپنیوں پر نہیں ہو گا جن میں ورکرز کی تعداد 10 سے کم ہے۔ نئی ترامیم کے مطابق کمپنیوں کو ورکرز کے گھروں سے کام کے دوران ان کی نگرانی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

پرتگال کے اراکینِ پارلیمنٹ نے دفتری اوقات کے بعد کام سے متعلق پیغامات ملنے کے سلسلے کو منقطع کرنے اور دفتری آلات کو بند کرنے کا حق دینے سے متعلق ترامیم منظور نہیں کیں۔

نئی قانون سازی کے تحت اب کمپنیوں کو وہ اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے جو ملازمین کو دور دراز سے کام کرنے کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں جن میں بجلی کا بل اور انٹرنیٹ کے اخراجات شامل ہیں۔ کمپنیاں ان اخراجات کو کاروباری اخراجات کے طور پر لکھ سکتی ہیں۔

نئے قوانین چھوٹے بچوں کے والدین کے لیے بھی مثبت خبر کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جن کو اب گھروں سے کام کرنے کے لیے اپنے آجر سے ایڈوانس میں اجازت نہیں لینی ہو گی۔ یہ اجازت ان ملازمین کے لیے ہوگی جن کے بچے آٹھ برس سے کم عمر کے ہیں۔

ان قوانین میں گھروں سے کام کرنے کے دوران تنہائی سے نمٹنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ کمپنیوں کے حکام سے توقع کی گئی ہے کہ وہ کم از کم ہر دو ماہ بعد اپنے ورکرز سے ملاقاتیں کریں گے۔ یورپ میں پرتگال پہلا ملک ہے جس نے کورونا وبا کے دوران رواں سال جنوری سے ریموٹ ورکنگ کے قوانین تبدیل کیے ہیں۔

پرتگال کے لیبر اور سوشل سکیورٹی کے وزیر انا مینڈس گوڈینو نے گزشتہ ہفتے ایک آن لائن کانفرنس میں کہا تھا کہ وبا کے سبب بہت سے لوگوں کے لیے بہت سی آسانیاں ہوئی ہیں البتہ کچھ لوگوں کی آئی ٹی سامان تک غیر مساوی رسائی ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہیے۔