تازہ ترین
  • Regional :- جرائم میں ملوث ایس ایچ او،اے ایس آئی سمیت5اہلکار گرفتار،ایس ایس پی سینٹرل
  • Regional :- ایس ایچ او سمیت تمام اہلکاروں کومعطل کرکے لاک اپ کردیا گیا،ملک مرتضیٰ
  • Regional :- کراچی:ایم کیو ایم ہر معاملے میں لسانیت لےکرآتی ہے،ناصر شاہ
  • Regional :- کراچی:رسی جل گئی پر بل نہیں گیا،وزیر اطلاعات سندھ ناصرشاہ

کھیل کے دوران جاں بحق ہونے والے کرکٹرز

Published On 06 June,2021 07:00 pm

لاہور: (دنیا میگزین) یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ کھیل کے دوران سب سے زیادہ انگلینڈ کے کھلاڑی ہلاک ہوئے، تاہم اس فہرست میں پاکستان کے بھی 2 کھلاڑی شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان میں سب سے کم عمر انگلینڈ کے آرتھر ایئرلم تھے جو باؤلنگ کرتے تھے، وہ صرف 17برس کی عمر میں سر پر گیند لگنے سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔

اس مضمون میں ہم کرکٹ کی تاریخ کے ان کھلاڑیوں کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے جو کرکٹ کھیل رہے تھے لیکن کھیل کے دوران ہی ان کی اپنی زندگی کا کھیل ختم ہو گیا۔

کلاڈ ولسن

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے کلاڈ ولسن پہلے فٹ بالر تھے لیکن فٹ بال وہ شوقیہ طور پر کھیلتے تھے۔ 1880 ء میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی فٹبال ٹیم کے رکن تھے جو ایف اے کپ فائنل میں پہنچی۔ ولسن نے بعد میں کئی سال تک فسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ بلے بازی کے علاوہ وکٹ کیپنگ بھی کرتے تھے۔ جون 1881ء میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے ’’جیٹلمین آف انگلینڈ‘‘ کے خلاف میچ کھیلا۔ وہ کائونٹی کرکٹ کھیلتے رہے۔ جون 1881 ء میں ہی ایک میچ کے دوران انہیں لو لگ گئی۔ جب انہیں ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ کچھ لمحوں بعد ہی وفات پا گئے ۔ ان کی عمر صرف 23برس تھی۔

فریڈرک رینڈن

24جون 1845ء کو انگلینڈ میںپیدا ہونے والے فریڈرک رینڈن نے 15فسٹ کلاس میچزکھیلے۔ وہ آل رائونڈر تھے۔ وہ 1876 ء تک کھیلتے رہے۔ وہ فسٹ کلاس میچز میں امپائرنگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ وہ اتنے اچھے بلے باز نہیں تھے البتہ ایک برق رفتار بائولر کی حیثیت سے انہوں نے 17.70 رنز کی اوسط سے 37وکٹیں اپنے نام کیں۔ 1881 ء میں لارڈز کے میدان میں کھیلتے ہوئے گیند سر پر لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور فروری 1883 ء میں چل بسے۔

آرتھر ایئرلم

اس کرکٹر کا تعلق بھی انگلینڈ سے تھا۔ ایک میچ کے دوران بلے باز نے ایک شاٹ کھیلی اور گیند آرتھر کے سر پر لگی جو ان کی موت کا سبب بن گئی۔ یہ بائولر 17برس کا تھا جب لقمۂ اجل ہوا۔

عبدالعزیز

یہ پاکستانی کرکٹر 1941ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ افتتاحی بلے باز بھی تھے اور وکٹ کیپر بھی۔ا نہوں نے8 فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ کھیل کے دوران کرکٹ کی گیند ان کے سر پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ انہوں نے عمر عزیز کی صرف 18بہاریں دیکھیں۔ 1941 ء میں جنم لینے والے عبدالعزیز 1959 ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

مائیکل انسیورتھ

یہ کرکٹر 13مئی 1922ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔ انہوں نے کائونٹی کرکٹ میں سنچریاں بھی بنائیں اور نصف سنچریاں بھی اپنے نام کیں۔1964 ء میں انہوں نے آخری فسٹ کلاس میچ کھیلا۔ 56سال کی عمر میں وہ لندن میں ایک کرکٹ میچ کھیل رہے تھے جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔

ولف سلیک

یہ سیاہ فام انگلش کرکٹر تھے۔ 12دسمبر 1954 ء کو انگلینڈ میں پیدا ہونے والے یہ کرکٹر افتتاحی بلے باز تھے۔ انہوں نے 3ٹیسٹ میچز اور2ایک روزہ میچز میں حصہ لیا۔ 7مارچ 1986 ء کو انہوں نے پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا جبکہ ان کا پہلا ایک روزہ میچ بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا۔ سلیک 11برس کی عمر میں انگلینڈ آئے تھے اور یہیں انہوں نے کرکٹ کھیلنی سیکھی۔ سلیک نے 237 فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ وہ 1977 ء سے 1988ء تک مڈل سیکس کائونٹی کی طرف سے کھیلتے رہے۔ اس سے پہلے وہ 1976 ء میں بکنگھم شائر کی طرف سے کھیلتے رہے۔ یہیں انہیں مڈل سیکس کے کوچ ڈون بینٹ نے دیکھا اور اگلے سال انہیں اپنی کائونٹی میں شامل کر لیا۔ 1977 ء میں جب انہوں نے مڈل سیکس کی طرف سے پہلا میچ کھیلا تو زیادہ متاثر نہ کر سکے۔ 1981ء میں جب مائیک بریرلے کو انگلینڈ کی قومی ٹیم کیلئے واپس بلایا گیا تو ولف سلیک کو مڈل سیکس کی طرف سے بریرلے کی جگہ اوپننگ کرنے کیلئے بلوا لیا گیا۔ بریرلے مڈل سیکس کائونٹی کے کپتان تھے۔ لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں کھیلتے ہوئے ولف سلیک نے 181رنز بنائے اور وہ ناٹ آئوٹ رہے۔ یہ میچ انہوں نے کینٹ کے خلاف کھیلا تھا۔ اگلے فسٹ کلاس میچ میں انہوں نے 248رنز بنائے۔

پھر ایک وقت ایسا آیا جب انہیں مڈل سیکس کا ہیرو کہا جانے لگا۔اس کرکٹر کو ایک عجیب و غریب بیماری لاحق تھی۔ بلے بازی کے دوران ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا تھا۔ 15جنوری 1989 کو وہ گیمبیا میں کھیل رہے تھے کہ ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا اور وہ زمین پر گر پڑے اورکچھ دیر بعد ہی چل بسے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ انہوں نے صرف 34 سال کی عمر پائی۔

ایان فولی

دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے ایان فولی بڑے ہینڈسم تھے۔ وہ 9جنوری کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ پہلے میڈیم فاسٹ بائولر تھے بعد میں سپن بائولنگ شروع کردی۔ انہوں نے 1982 ء میں فسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ وہ لنکا شائر کی طرف سے بائولر کی حیثیت سے کھیلتے تھے۔ اگلے2برسوں میں انہوں نے 129وکٹیں حاصل کر لیں اور ایک میچ میں انہوں نے 57 رنز کے عوض 12وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کا نام انگلینڈ کی قومی ٹیم کیلئے زیر غور تھا کہ ان کا بایاں بازو زخمی ہو گیا۔ جمیکا اور زمبابوے کے دورے کے بعد انہوں نے کرکٹ چھوڑ دی۔ دو سال بعد ایک کائونٹی میچ میں بلے بازی کے دوران ان کی آنکھ کے نیچے گیند لگی انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا اور ان کا آپریشن کیا گیا۔ وہیں علاج کے دوران دل کے دورے سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس وقت وہ 30 برس کے جوان تھے۔ بعد میں ہسپتال والوں نے اپنی کوتاہی تسلیم کی۔ا یان فولی کی موت بڑی افسوسناک تھی۔

رامن لامبا

بھارتی کرکٹر رامن لامبا کے ساتھ بھی زندگی نے زیادہ دیر تک وفا نہ کی۔ دو جنوری 1960ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والے اس کرکٹر نے 4 ٹیسٹ میچز اور 32ایک روزہ میچز میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے۔ وہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے مقبول کھلاڑی تھے۔ انہوں نے 17جنوری 1987 ء کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ چار ٹیسٹ میچز میں رامن لامبا نے 20.4رنز کی اوسط سے 102 رنز بنائے۔ انہوں نے ایک روزہ میچز میں 27.0 رنز کی اوسط سے 783 رنز اپنے نام کیے۔ 20فروری 1998 ء کو وہ بنگلہ بندھو سٹیڈیم ڈھاکہ میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے ایک میچ میں فیلڈنگ کر رہے تھے۔ انہیں شاٹ لیگ پر بلانے کے بعد کپتان نے پوچھا کہ کیا وہ ہیلمٹ پہننا پسند کریںگے کیونکہ شاٹ لیگ پر فیلڈنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا لیکن رامن لامبا نے کہا کہ ’’اوور کے3 بال رہ گئے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہیلمٹ کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ بائولر سیف اللہ خان نے ایک شاٹ بال کرائی اور بلے باز محراب حسین نے زوردار سٹروک کھیلا۔ رامن لامبا کی پیشانی پر گیند اتنی زور سے لگی کہ ری بائونڈ (Rebound) ہو کر وکٹ کیپر کے پاس گئی جس نے کیچ لے لیا۔

سارے کھلاڑی وکٹ کیپر کو شاباش دینے لگے۔ اسی اثنا میں وکٹ کیپر نے رامن لامبا کی طرف دیکھا جو زمین پر گرے ہوئے تھے۔ رامن لامبا اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا ۔ سرجن نے دماغ کا آپریشن کیا۔ دہلی سے بھی ایک سپیشلسٹ پہنچ گیا لیکن وہ مایوسی کی تصویر بنا واپس چلا گیا اور اس نے کہا ’’کوئی امید نہیں‘‘ اور پھر رامبا 38برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

وسیم راجہ

وہ پاکستان کے بہترین آل رائونڈر تھے۔ 70 ء اور 80ء کی دہائی میں انہوں نے بہت اعلیٰ کرکٹ کھیلی۔ وہ 3جولائی 1952 ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 57 ٹیسٹ میچز میں 36.2 رنز کی اوسط سے 2821 رنز بنائے جبکہ 54ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 223رنز کی اوسط سے 782 رنز کیے۔ وہ بڑے جارحانہ انداز میں کھیلتے تھے۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت کے خلاف ان کی کارکردگی شاندار رہی۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے اور ایک اچھے سپن بائولر بھی تھے۔ انہوں نے چار ٹیسٹ سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں بنائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 51ٹیسٹ وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔ ٹیسٹ میں ان کازیادہ سے زیادہ ایک اننگز میں انفرادی سکور 125رنز تھا جو انہوں نے 1983 ء میں بھارت کے خلاف جالندھر میں بنائے۔ وہ ایک جرات مند اور بہادر (Dashing) کھلاڑی تھے۔ آسٹریلیا کے مشہور کرکٹ تبصرہ نگار جان آرلٹ نے انہیں پاکستان ٹیم کا سپر سٹار قرار دیاتھا۔


وسیم راجہ نے کرکٹ کوچنگ بھی کی۔ انہوں نے 1973 ء سے 1985ء تک پاکستان کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ کئی بار انہیں ٹیم سے باہر بھی کر دیا گیا۔ انہوں نے 250فسٹ کلاس میچز میں 11434رنز بنائے۔ وہ برطانیہ میں ٹیچر کے طور پر پڑھا رہے تھے ۔ اگست 2006 ء میں وہ مارلو (بکنگھم شائر) میں سرے کی طرف سے ایک میچ کھیل رہے تھے کہ فیلڈنگ کے دوران دل کا دورہ پڑا اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ ان کی عمر 54 سال تھی۔

ڈیرن رینڈل

یہ جنوبی افریقہ کے کرکٹر تھے اور وکٹ کیپر بلے باز تھے۔ انہوں نے چار فسٹ کلاس میچز کھیلے۔ وہ دو دسمبر 1980ء کو ایسٹ لندن میں پیدا ہوئے۔ 8اکتوبر 2009ء کو انہوں نے پہلا فسٹ کلاس میچ کھیلا۔ 27اکتوبر 2013ء کو ایسٹرن کیپ میں کھیل کے دوران ان کے سر پر کرکٹ کی گیند لگی اور وہ اسی وقت انتقال کر گئے۔

فلپ ہیوز

30نومبر 1988 ء کو آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے فلپ ہیوز نے 2009 ء میں 20برس کی عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ انہوں نے کئی سال تک ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلی اور کائونٹی کرکٹ بھی۔ وہ فٹبال بھی کھیلتے رہے۔ فلپ ہیوز بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے جبکہ دائیں ہاتھ سے آف بریک بائولنگ بھی۔ انہوں نے 26 ٹیسٹ میچز میں 32.66رنز کی اوسط سے 1535 رنز بنائے۔ 25ایک روزہ میچز میں 35.26 رنز کی اوسط سے ان کا سکور 826تھا۔ فلپ ہیوز نے 3 ٹیسٹ اور سات نصف سنچریاں بنائیں۔

ایک روزہ میچز میں ان کی سنچریوں کی تعداد2 ہے جبکہ انہوں نے4 نصف سنچریاں بھی اپنے نام کیں۔ ٹیسٹ میں ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 160تھا۔ ایک رزوہ میچوں میں انکا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 138 رنز تھا۔ انہوں نے 114فسٹ کلاس میچز کھیلے البتہ بائولر کی حیثیت سے وہ کوئی وکٹ نہ حاصل کر سکے۔

25نومبر 2014 ء کو سڈنی کرکٹ گرائونڈ میں سائوتھ آسٹریلیا اور نیو سائوتھ ویلز کے درمیان ایک میچ کے دوران نیو سائوتھ ویلز کے بائولر سین ایبٹ کے ایک بائونسر کو ہک کرنے کی ناکام کوشش کے نتیجے میں گیند ان کی گردن پر لگی۔ ہیوز نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا لیکن گیند ان کے بائیں کان کے نیچے لگی۔ یہ محفوظ جگہ نہیں تھی۔ وہ زمین پر گر پڑے اور انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ یہاں ان کی سرجری کی گئی۔ 27نومبر 2014ء کو فلپ ہیوز کا انتقال ہو گیا۔ اس کرکٹر نے زندگی کی صرف 25بہاریں دیکھیں۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر