برطانوی مسلمان تنظیمیں کورونا کیخلاف غلط معلومات ختم کرنے میں مصروف

Published On 15 March,2021 04:53 pm

لندن: (ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے متعلق جعلی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سخت قوانین متعارف کرا رہے ہیں دوسری طرف برطانیہ میں دو مسلمان تنظیمیں واٹس ایپ پر کورونا وائرس کے خلاف پھیلنے والی غلط معلومات ختم کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق واٹس ایپ پر کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات والے میسجز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ واٹس ایپ پر فارورڈ کرنے والا آپشن صارفین کو ایک میسج تھوڑی ہی دیر میں ہزاروں افراد تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق مسلم کونسل آف برٹن اور برٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نامی تنظیمیں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے وائرل ہونے والی ویڈیوز کے طرز پر میسجز بنائے ہیں جو کورونا وائرس سے متعلق مفروضوں کے خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ویکسین سے متعلق جعلی خبریں، کینیڈا اور برطانیہ نے علماء سے مدد مانگ لی

مسلم کونسل آف برٹن کے سسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور برٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر واجد اختر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال معلومات کی جنگ تھی۔ لوگوں کو اپنی پریشانیوں اور خدشات کے بارے میں بات کرنی چاہیے لیکن وائرل ہونے والا کچھ مواد ایسا تھا کہ وہ جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی غرض سے بنایا گیا تھا۔ واٹس ایپ پر ہر قسم کی باتیں گردش کرتی ہیں جس کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسے باقاعدہ ڈیزائن نہیں کیا ہے۔ جو شخص ویکسین کے خلاف ہوتا ہے وہ اپنا کیمرہ چلا کر 60 سیکنڈز تک بات کرتا ہے اور اس (ویڈیو) کو آگے بھیج دیتا ہے۔ پھر یہ جھوٹ دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔ تو ہم اس کا انتظار کرنے والے نہیں تھے۔ برطانیہ کے مسلمانوں کی کمیونٹی میں مسلم کونسل آف برٹن کی ساکھ اس مہم کی کامیابی کی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے دوستوں یا ساتھ کام کرنے والوں کی زیادہ سنتا ہے۔ ہم وہ ہیں جو ان کے برابر مسجد میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دوست یا رشتہ دار ہیں۔

برطانیہ کے قومی اعداد و شمار کے دفتر نے پتا لگایا ہے کہ برطانیہ میں اقلیتی برادری کے لوگ سفید فام افراد کے مقابلے میں کورونا وائرس کی ویکسین لگوانے سے زیادہ ہچکچاتے ہیں۔ تاہم واٹس ایپ نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبریں برطانیہ میں ایشیائی برادری کو کورونا ویکسین دینے میں رکاوٹ قرار

واٹس ایپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میسجز آگے بھیجنے سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو فروغ مل سکتا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایسے میسجز کا پھیلاؤ کم کرنا ضروری ہے تاکہ واٹس ایپ کو ذاتی گفتگو کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
 

Advertisement