لاہور: (ویب ڈیسک) کرونا وائرس پھیلنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد میڈیکل فیس ماسک پہننا ضروری سمجھتی ہے تاہم ماہرین اس حوالے سے تردد کا شکار ہیں کہ یہ ماسک فائدہ مند ہیں بھی یا نہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا سے ہونیوالی انفیکشن سے بیمار ہونے کا ڈر ایسا پھیلا کہ لوگ اصل مرض کی بجائے ڈر سے ہی زیادہ متاثر ہوئے ہیں، حکومت کی طرف سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں سے ایک ماسک پہننا بھی تھا تو بس دیکھا دیکھی لوگ ماسک پہننے کے چکر میں میڈیکل سٹور کے بعد بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور بھی خالی کر گئے۔
ہمیشہ کی طرح منافع مافیا نے یہ صورتحال دیکھی تو ان کے ہاتھوں میں پھر کھجلی شروع ہوئی اور 5 روپے والا ماسک 400 روپے تک بھی فروخت ہوا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بار بار سخت ایکشن کے اعلانات کے باوجود میڈیکل فیس ماسک تاحال دکانوں سے غائب ہے اور شہری بھی اس کی تلاش میں نڈھال نظر آتے ہیں۔
اب غیر ملکی ماہرین نے جو تازہ تحقیق کی ہے ان کی روشنی میں فیس ماسک کرونا وائرس کے پھیلاو میں کوئی خاص بچاو کرتا نظر نہیں آتا۔
ایک رپورٹ میں برطانیہ کی معروف یونیورسٹی کے ماہر کہتے ہیں کہ میڈیکل فیس ماسک کرونا وائرس کے خلاف زیادہ پراثر ثابت نہیں ہو سکے، کیونکہ ان میں آنکھوں کو ڈھانپنے کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ تاہم یہ ہاتھوں میں وائرس ہونے کی صورت میں چہرے کو چھونے سے بچائے رکھنے میں ضرور مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
برطانیہ ہی کی ایک دوسری یونیورسٹی کے ماہر جو جراثیم کے پھیلاو سے متعلق شعبے ہی کے سربراہ ہیں، ان کا تجربہ پچھلی تحقیق سے مختلف ہے، ان کا کہنا تہے کہ ایک ہسپتال میں کی گئی سٹڈی میں میڈیکل فیس ماسک انفیکشن سے بچاو کیلئے اتنا موچر ثابت ہوا تھا جتنا اس مقصد کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ سانس لینے والا آلہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آلے میں ہوا کو صاف کرنیوالا فلٹر بھی نصب ہوتا ہے۔
اس سب کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہاتھوں کو دھوئے بغیر منہ پر لگانے سے بچنا ہی زیادہ اہم احتیاط ہے تاہم دیگر احتیاطوں میں ہاتھوں کو گرم پانی سے دھونا، آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز اور صحت مند طرز زندگی اپنانا بھی شامل ہے۔