تازہ ترین
  • بریکنگ :- 13اگست کے جلسے اور شہباز گل کی گرفتاری کی صورتحال پرغور،ذرائع
  • بریکنگ :- 13 اگست کا جلسہ ہر حال میں ہوگا، بھرپور تیاری کریں، عمران خان
  • بریکنگ :- شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کا ایف آئی اے سے رجوع کرنےکا فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:درخواست علی اعوان کی جانب سے تیار کی گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت کی شہبازگل کی گرفتاری کی مذمت
  • بریکنگ :- فیصل چودھری شہباز گل کے مقدمے میں معاونت کریں گے، اجلاس میں فیصلہ
  • بریکنگ :- حکومت فاشزم پراترآئی ہے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان
  • بریکنگ :- سیاسی کارکنوں کےساتھ غیرجمہوری رویہ اختیارکیاجارہاہے،عمران خان
  • بریکنگ :- حکومت کےفاشسٹ رویےکوکسی صورت برداشت نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- عوام کی طاقت ہمارےساتھ ہے، کسی سےڈرنےوالےنہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:امپورٹڈ حکومت کےدن گنےجاچکےہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی قیادت کا اجلاس ختم

گیس چوری کی روک تھام، ہر ریجن میں پولیس سٹیشن کے قیام پر غور

Last Updated On 25 February,2019 06:29 pm

لاہور: (دنیا نیوز) وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ گیس لاسز سے 48 بلین کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔ کمپنی 157 ارب خسارے میں ہے۔ گیس چوری روکنے کیلئے ہر ریجن میں پولیس سٹیشن کے قیام پر بھی غور کر رہے ہیں۔

وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 11 فیصد سوئی ناردرن اور 13 فیصد سوئی سدرن میں گیس لاسز ہے، اڑھتالیس بلین کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے جو کہ بہت پریشان کن ہے۔ اوگرا ریگولیٹری اتھارٹی ہے، اس نے دونوں کمپنیوں کو 7 فیصد کا ٹارگٹ دیا ہے۔

غلام سرور خان نے کہا کہ گیس کا ضیاع روکنے کیلئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں سے بات ہوئی ہے۔ چوری کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ہر ریجن میں اپنا ایک پولیس سٹیشن بنانے کے حوالے سے غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمت کو بڑھانے کی وجہ کمپنی 157 ارب خسارے میں ہیں، نہیں چاہتے کہ یہ کمپنی بھی سٹیل مل اور پی آئی اے کی طرح ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمت میں 143 فیصد اضافہ سے صرف 5 فیصد لوگ متاثر ہونگے۔ گیس کی قیمت میں 10 فیصد افافے سے 85 فیصد عوام متاثر ہوگی۔ سلیپ ریٹ میں تبدیلی کے باعث عوام کو زیادہ بل آ رہے ہیں، اس حوالے سے انکوائری جاری ہے۔ ماہ کے اختتام تک تمام انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی جائیں گی۔