تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ

حکومت کا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

Last Updated On 07 October,2019 03:27 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سی پیک اتھارٹی کا مسودہ تیار کر کے منظوری کیلئے صدر پاکستان کو بھجوا دیا گیا۔

آرڈیننس کا اطلاق پورے پاکستان میں ہو گا۔ سی پیک اتھارٹی مسودے کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس نہ ہونے کے باعث فوری طور پر آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا گیا، سی پیک اتھارٹی 10 ارکان پر مشتمل ہوگی، وزیر اعظم اتھارٹی کے چئیر پرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی تعیناتی کریں گے، اتھارٹی چئیر پرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی تعیناتی 4 سال کے لیے ہو گی، اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو 20 گریڈ کا سرکاری آفسر ہو گا، اتھارٹی کا دفتر اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا۔

مسودے کے مطابق اتھارٹی پاکستان اور چین کے مابین مزید مختلف شعبوں میں تعاون کا تعین کرے گی، اتھارٹی جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی اور جوائنٹ ورکنگ گروپ کے درمیان موثر رابطے کا کردار ادا کرے گا، اتھارٹی سی پیک منصوبوں کے حوالے سے صوبوں اور وزارتوں کے درمیان رابطہ کاری کرے گی، سی پیک سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اتھارٹی کے اکثریتی ارکان کی منظوری سے ہو گا، سی پیک منصوبوں سے مستفید ہونے والا کوئی بھی اتھارٹی کا حصہ نہیں ہو گا، سی پیک اتھارٹی پاکستان اور چین کے مابین مفاہمتی یاداشتوں کے مطابق کام کرے گی۔

سی پیک اتھارٹی مسودے کے مطابق سی پیک اتھارٹی ہر سال اپنی فنانشل رپورٹ وزیر اعظم کو جع کروائے گی، اتھارٹی سی پیک سے متعلق کوئی بھی تفصیلات طلب کرنے کی مجاز ہو گی، سی پیک اتھارٹی کے لیے بجٹ مختص ہوگا، اتھارٹی کو اپنے ماتحت ملازمین کی تقرری کا بھی اختیار حاصل ہو گا، اتھارٹی رولز کے مطابق سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی، سی پیک بزنس کونسل اتھارٹی کو اس کے مقاصد کے حصول میں رہنمائی فراہم کرے گی، اتھارٹی وزیر اعظم کی منظوری سے مزید قوانین بنانے کی مجاز ہو گی، سی پیک اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔