کورونا پر حکومت اپوزیشن تقسیم، نقصان کس کا ہوگا ؟

کورونا پر حکومت اپوزیشن تقسیم، نقصان کس کا ہوگا ؟

اپوزیشن نے اس پر شدید ردعمل کے اظہار کے بجائے پھر بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے کورونا سے نمٹنے کیلئے حکومت کیلئے تجاویز و آرا کا سلسلہ جاری رکھا اور اب وزیراعظم کی جانب سے ریلیف فنڈز کی تقسیم اور متاثرین کی نشاندہی کیلئے ٹائیگر فورس کے قیام سمیت دیگر اقدامات کے ذریعہ ظاہر کیا کہ وہ اس کی بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے سولو پرواز پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت اس میں کامیاب ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جواباً اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو، آفتاب شیر پاؤ سمیت دیگر سے رابطے کئے اور ان سے مشاورت کے ساتھ بنے حالات میں کورونا سے نمٹنے کیلئے بعض اقدامات اور نکات پر اتفاق کیا جن میں پارلیمانی مانیٹرنگ کمیٹی کی تشکیل، کورونا کے حوالہ سے آنے والی عالمی امداد کے استعمال، پارلیمنٹ کی ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس بلانے، پی ایم ڈی سی کو بحال کرنے، اس کے فعال کردار، ڈاکٹرز ، نرسز کو طبی آلات کی فراہمی، کورونا سے نمٹنے کیلئے آگاہی مہم سرکاری ہسپتال میں ضروری سہولتوں کی فراہمی سمیت کورونا ٹائیگر فورس کے قیام کو مسترد کرنے پر زور دیا۔

حکومت کورونا پر اقدامات کو اپنے لئے پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنائے گی تو اپوزیشن اس ایشو پر حکومت کو ہر سطح پر ایکسپوز کرتی دکھائی دے گی اور اس ساری کیفیت میں اصل نقصان متاثرین کا ہوگا۔ سیاسی حوالہ سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کورونا کے طوفان میں وزیراعظم عمران خان کے پاس بڑا موقع تھا کہ وہ وزیراعظم ہونے کے ساتھ قومی لیڈر کا کردار ادا کرتے ۔ جب قوم ان کے دائیں طرف شہباز شریف اور بائیں طرف بلاول بھٹو زرداری کو کھڑا دیکھتی اور مل جل کر اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان ہوتا تو مشکل کی اس صورتحال میں قوم کے اندر ایک جذبہ ولولہ پیدا ہوتا۔ زیادہ موثر اور مضبوط انداز میں اس وبا کے خاتمہ کیلئے ماحول بنتا مگر افسوس وزیراعظم عمران خان نے یہ بڑا موقع گنوا دیا۔ بنیادی ذمہ داری حکومت کی تھی کہ وہ اس حوالہ سے آگے بڑھتی اور سیاسی جماعتوں سمیت تمام طبقات کا اعتماد حاصل کرتی۔ اس ساری صورتحال میں قیادت وزیراعظم عمران خان کے پاس ہی ہوتی۔ حکم بھی انکا چلتا مگر اس حکم اور احکامات کے پیچھے تائید و حمایت پوری قوم کی ہوتی۔ پھر وزیراعظم عمران خان مخیر حضرات کو بلاتے اور اس مشکل گھڑی میں ان سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے۔ وبائیں اور بلائیں صرف بیکٹیریا اور وائرس کی صورت میں نہیں ہوتیں۔ کچھ وبائیں اخلاقی، سیاسی اور نفسیاتی بھی ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک خود پسندی ہے اور اگر یہ ہماری لیڈرشپ میں ہو تو اس کے اثرات ملک کو غیر مستحکم اور قوم کو تقسیم کر ڈالتے ہیں اور اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشمکش اور محاذآرائی کی صورتحال کا آج نہ ملک متحمل ہو سکتا ہے نہ قوم اور نہ کورونا کے متاثرین۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک پریشان اور تشویش کورونا کی وبا اس کے اثرات اور اس کے نتائج کے حوالہ سے ہے اور دوسری بڑی پریشانی ملک کے اندر حکومت اور اپوزیشن میں جاری کشمکش کی صورتحال پر ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن، اخوت اور دیگر سماجی ادارے ہر طرح کی سیاست سے بالاتر اپنا کام کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کا زور فی الحال ٹائیگر فورس پر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی سے سیاسی مخالفین کے مذکورہ فورس کے حوالہ سے تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔