تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد 10 فیصدسےزائد کورونا کیسزوالےاضلاع میں شامل
  • بریکنگ :- اسلام آباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 11.8ہے
  • بریکنگ :- این سی او سی کے مطابق کورونا ایس او پیز جاری
  • بریکنگ :- ان ڈوراجتماع پر 24 جنوری سےمکمل پابندی ہوگی، نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورعوامی اجتماع پر 300 ویکسی نیٹڈافرادکےساتھ اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- اسلام آبادمیں ان ڈورشادیوں پر 24 جنوری سےپابندی ہوگی،نوٹیفکیشن
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورشادیوں کیلئے 300 ویکسی نیٹڈافراد کے ساتھ اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- شادیوں کی تقریبات سےمتعلق پابندیاں 15فروری تک جاری رہیں گی،نوٹیفکیشن

حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے، ڈائیلاگ کا وقت ختم ہو گیا: پی ڈی ایم

Published On 14 December,2020 07:41 pm

لاہور: (دنیا نیوز) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد کے تمام کارکنوں کو لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس کے بعد میڈٰیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکمران میڈیا کو گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم سب مل کر اس کوشش کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے جلسے کی کوریج روکنے کیلئے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے گزشتہ روز انتہائی گھٹیا کردار ادا کیا گیا جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے تمام سربراہوں نے تفصیلی اعلامیے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ کچھ چیزوں میں ابہام تھا، جسے دور کرنا تھا۔ اکتیس دسمبر تک پی ڈی ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے استعفے اپنی جماعتوں کے قائدین کو پیش کر دیں گے۔

پی ڈی ایم سربراہ نے الزام عائد کیا کہ آمرانہ ذہنیت کے لوگ میڈیا کو جانبدار بنا رہے ہیں۔ ہم نے مل کر اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔ مینار پاکستان کے جلسے کو تاریخ یاد کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی نے صوبوں کو لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں شیڈول دیئے ہیں۔ سٹیئرنگ کمیٹی کا شیڈول بدستور برقرار رہے گا۔ آج حکومت کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اکتیس جنوری تک مستعفی ہو جائے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے مریم نواز سے سوال کیا کہ کیا وہ حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب ہم عوام میں چلے گئے ہیں، چاہے سلیکٹرز ہو یا سلیکٹڈ بات چیت نہیں ہوگی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے کامیاب جلسے کو دیکھ کر حکومت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ عوام سمندر کی طرح ہمارے ساتھ تھے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پوری زندگی میں ایسا جلسہ کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے نہیں پتا پنڈال کی کرسیاں کدھر چلی گئیں؟ سردی کے باوجود لوگوں نے کھڑے ہو کر جلسہ دیکھا۔ لوگوں کا اتنا جذبہ دیکھ کر حیران ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جس بات کا سرے سے وجود ہی نہیں، چینلز نے اس بارے میں جھوٹی خبریں چلائیں۔ ہمارے اراکین اسمبلی نے لاہور جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات کام کیا، اس لئے میں انھیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے دونوں ہاتھوں سے انھیں سلام پیش کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وہ منگل کے روز جیل میں میاں شہباز شریف سے ملاقات کیلئے جائیں گے اور ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کرینگے۔

اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں سینئر رہنما اپنی اپنی رائے دیتے ہیں، جب فیصلہ ہو جائے گا تو پھر اعتزاز احسن بھی مانیں گے۔ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے مل کر اکٹھے کریں گے۔ ڈائیلاگ کا وقت ختم، اب مارچ کرنے اور عمران خان کے استعفے کا وقت ہے۔