تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے یورپی یونین کی سفیر کی ملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور جی ایس پی پلس کی پیشرفت پر بات چیت
  • بریکنگ :- وزیرخزانہ نے پاک یورپی یونین تعلقات پر روشی ڈالی
  • بریکنگ :- یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ باہمی اور تجارتی تعلقات ہیں، وزیر خزانہ
  • بریکنگ :- یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دیناچاہتےہیں،مفتاح اسماعیل

تحریک عدم اعتماد: اکثریت کھونے پر وزیراعظم مستعفی ہوجائیں، متحدہ اپوزیشن

Published On 30 March,2022 05:30 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ اکثریت کھونے پر وزیراعظم مستعفی ہوجائیں۔

 قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے بعد اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا اعلان کر لیا۔

شہباز شریف

اس موقع پر بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے، شاید دہائیوں میں ایسا موقع آیا جب پوری قومی سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر قومی جرگہ کی صورت میں موجود ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے ملاقات کی اور 20 منٹ میں معاملات طے ہوگئے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے کر نئی روایات قائم کرسکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا شکر گزار ہوں، متحدہ نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، یہ اعلان تاریخی ہے، کراچی کی ترقی کےلیے مل کر چلنا ہوگا، پیپلزپارٹی اورایم کیوایم کے ورکنگ ریلیشن کا عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں۔ عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، اب آپ اتنی دیر نہیں بھاگ سکتے کل ہی ووٹنگ رکھیں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اب وزیراعظم کے پاس کوئی اپشن نہیں رہا، عمران خان استعفیٰ دے۔ وزیراعظم کی اکثریت مکمل ختم ہوچکی ہے۔ بی اے پی اور جمہوری وطن پارٹی اپوزیشن میں ہے۔ کل اسلم بھوتانی شامل ہوئے۔ ایم کیو ایم اپوزیشن میں شامل ہوگئی ہے۔ پاکستان کی ترقی کےلیے مل کر چلیں گے، حکومت کی شکل میں سازش کی وجہ سے پورا پاکستان نقصان اٹھا رہا ہے۔ 2018 کاالیکشن ایک سازش تھی، 2018 میں الیکشن کے نام پر سلیکشن ہوئی۔

مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف سندھ اور کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہے جس کے ثمرات پوری قوم کو پہنچیں گے۔ ساڑھے تین سال پہلے جس ڈرامے کا آغاز ہوا تھا اس کا انجام ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کو آج استعفیٰ دے دینا چاہیے، اب تہمارے لیے چاٹنے کیلئے پانی کی ایک بوند بھی نہیں رہی، اب سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہے، سنا ہے وزیراعظم قوم سے خطاب کریں گے، ملک کو دوبارہ کھڑا کرنے کیلئے یکجہتی کی ضرورت ہو گی۔ یقیناًہمارے سامنے چیلنجز ہیں۔ جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا وقت ہے قومی دھارے میں شامل ہوں، تمسخر کی سیاست نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، پاکستان میں صحتمند سیاست کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں، جھوٹی سیاست کا آج خاتمہ ہورہا ہے، 4 سال پہلے شروع ہونے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا، اس کے اثرات قوم تک پہنچیں گے، ایم کیو ایم کا فیصلہ پاکستان کیلئے سیاسی یکجہتی کا اظہارہے، ایم کیوایم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں، ایم کیو ایم عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دےگی۔ متحدہ اپوزیشن کی تعداد 175 ہو گئی ہے۔ عالمی سازش تب ہوئی تھی جب عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا تھا، اب کوئی عالمی سازش نہیں ہے، ڈرامے مت بناؤ، آپ کی اپنی حیثیت نہیں ہے، آپ کو کوئی خط بھیجے، ہم نے عالمی ایجنڈے کو ناکام بنانا ہے، ہم ایک خود مختار ریاست کا تصور رکھتے ہیں۔

سیاستدانوں کوعمران خان کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے: مریم نواز

 مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کوعمران خان کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئیے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کیا۔

ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان سےاستعفے کا مطالبہ کر دیا۔

انہوں نے لکھا کہ آپ کی نااہلی اور مکمل تباہی کا دور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شکست خوردہ ہے، آپ نے نہ صرف اکثریت بلکہ اخلاقی اختیار بھی کھو دیا ہے، اپنے منصب سے استعفیٰ دیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی اتحادی ایم کیوایم پاکستان نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کا ساتھ دینے اورحکومت میں موجود اپنے وزرا کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔